بین الاقوامی

Senator Chuck Schumer attacks Trump: امریکی عوام جنگ نہیں چاہتے، سینیٹر چک شومر کا ٹرمپ پر فوجی مہم کے متعلق متضاد بیانات دینے کیا الزام

واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں اقلیتی لیڈر چک شومر نے کہا ہے کہ امریکی عوام کسی نئی جنگ کے حق میں نہیں ہیں اور انہوں نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ شومر نے الزام لگایا کہ سینیٹ میں موجود ریپبلکن اراکین صدر ٹرمپ کے ’فوجی مہم جوئی‘ (Military Adventurism) کی حمایت کر رہے ہیں۔

جمعرات کو سینیٹ کے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے چک شومر نے کہا کہ سیاسی نظریات سے بالاتر ہو کر امریکی عوام مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے فوجی تصادم کے خلاف ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے مختلف سیاسی دھڑوں کے ووٹرز اس صورتحال سے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’امریکی عوام جنگ نہیں چاہتے۔ نہ ریپبلکن ووٹرز، نہ آزاد خیال شہری اور حتیٰ کہ ٹرمپ کے ‘میگا’ (MAGA) حامیوں میں سے بھی بہت سے لوگ جنگ کے خلاف ہیں۔”

شومر کے مطابق عوام کو لگتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ان کے ساتھ ایک طرح کا دھوکہ ہے۔ انہوں نے سینیٹ کے ان اراکین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ٹرمپ انتظامیہ کی جارحانہ پالیسیوں کو روکنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹ لیڈر نے کہا کہ بدھ کے روز سینیٹ کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو روک سکتی تھی، مگر یہ موقع ضائع کر دیا گیا۔ انہوں نے اسے امریکی سینیٹ کے لیے ایک مایوس کن لمحہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا، ’’یہ امریکی سینیٹ کے لیے ایک افسوسناک اور کمزور لمحہ تھا۔ جب مشرق وسطیٰ میں جنگ ہر روز شدت اختیار کر رہی ہے، اس وقت سینیٹ کے ریپبلکن اراکین ٹرمپ کے فوجی اقدامات کے پیچھے کھڑے ہو گئے، جبکہ امریکی عوام کی بڑی تعداد اس کی مخالفت کر رہی ہے۔”

چک شومر نے خبردار کیا کہ یہ تنازعہ اب اپنے ابتدائی دائرے سے باہر پھیلتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق لڑائی کے اثرات جنوب میں بحرِ ہند تک اور شمال میں آذربائیجان تک ڈرون حملوں کی صورت میں دیکھے جا رہے ہیں۔

انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ فوجی مہم کے مقاصد کے بارے میں مسلسل متضاد بیانات دے رہی ہے۔ شومر کے مطابق اگر وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، وزیر خارجہ مارکو روبیو اور خود صدر ٹرمپ کے بیانات کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس واضح حکمت عملی موجود نہیں ہے۔

ڈیموکریٹ لیڈر نے کہا کہ اس تنازعے کے اثرات اب امریکہ کے اندر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی صورت میں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عام امریکی شہریوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

چک شومر نے زور دیا کہ اگر اس تنازعے کو فوری طور پر قابو میں نہ کیا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ جنگ سے بچا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

1 second ago

Student Death DJ Noise: بلرام پور، گنیش وسرجن کے دوران طالبہ کی اچانک موت، ڈی جے کی تیز آواز پر اٹھے سوال

ڈیوائن پبلک اسکول کی طالبہ کی وسرجن تقریب کے دوران اچانک طبیعت بگڑی، بعد میں…

2 hours ago

UPITS 2026: یو پی آئی ٹی ایس 2026، 25 ستمبر سے گریٹر نوئیڈا میں سجے گا اتر پردیش کا بڑا تجارتی میلہ، وزیر داخلہ امت شاہ کریں گے افتتاح

پانچ روزہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں اتر پردیش کی صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی، دستکاری اور…

3 hours ago