بین الاقوامی

AI will transform India economy:  آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے بھارت کی بدل جائے گی تصویر ، معیشت کو ملے گی رفتار، ورلڈ بینک کا بڑا دعویٰ

بھارت آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) سے بڑا اقتصادی فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے اور اس کے ذریعے پرائیویٹ سرمایہ کاری کو دوبارہ رفتار مل سکتی ہے۔ یہ دعویٰ ورلڈ بینک کی ساؤتھ ایشیا کی چیف ماہرِ معیشت فرانجسکا اوہنسارگے نے کیا ہے۔ اوہنسارگے نے 4 اکتوبر کو ایک میڈیا گفتگو میں کہا کہ بھارت AI سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہت اچھی پوزیشن میں ہے۔ اسے بہت تیزی سے اپنایا جا رہا ہے۔ لوگ اسے مختلف طریقوں سے استعمال کر رہے ہیں اور اس کے ساتھ سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا۔ تاہم، یہ کہنا ابھی مشکل ہے کہ یہ فائدہ اتنا بڑا ہوگا کہ میکرو اکنامک کے اعداد و شمار کو بدل دے۔

اے آئی کی تیاری اور تیزی سے اپنانا

اوہنسارگے نے بتایا کہ بھارت کا AI ریڈی نیس انڈیکس دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں بہت بلند ہے، اور تقریباً ترقی یافتہ ممالک کے معیار کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ AI کا سب سے زیادہ استعمال BPO سیکٹر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں چیٹ جی پی ٹی کے لانچ کے بعد AI مہارت کی ضرورت والی نوکریوں کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔ اب یہ نوکریاں کل ملازمتوں کا تقریباً 12 فیصد حصہ بن چکی ہیں، جو دیگر شعبوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔ اس کا اثر سروس ایکسپورٹ پر بھی پڑا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی کے آنے کے بعد کمپیوٹر خدمات کی برآمدات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ مجموعی خدمات کی برآمدات تقریباً مستحکم رہی ہیں۔

پرائیوٹ سرمایہ کاری: سست مگر مضبوط

وبا کے بعد بھارت میں پرائیوٹ سرمایہ کاری کی رفتار کچھ سست رہی ہے، جبکہ کئی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں میں یہ تیزی سے بڑھی ہے۔ تاہم، حکومتی سرمایہ کاری میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔ اوہنسورگے کے مطابق، سست رفتاری کے باوجود بھارت میں نجی سرمایہ کاری کی ترقی بیشتر ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں بہتر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) بین الاقوامی معیار کے مقابلے میں کچھ کمزور ہے۔ خدمات کے شعبے کے علاوہ، اوہنسارگے نے کہا کہ ٹیرف اور نئے تجارتی معاہدے بھارت میں مینوفیکچرنگ کو فروغ دے سکتے ہیں۔

ایسے ہوگا بھارت کو فائدہ

اوہنسارگے کے مطابق میکسیکو اور ویتنام کی معیشتوں کو اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تقریباً 50 فیصد GDP تک رسائی حاصل ہے، جبکہ بھارت کے لیے یہ فی الحال صرف 12 فیصد جی ڈی پی کے برابر ہے۔ اگر بھارت برطانیہ، یورپی یونین، آسٹریلیا، کینیڈا اور ممکنہ طور پر امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کرتا ہے، تو یہ رسائی بھی 50 فیصد GDP تک بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے برطانیہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کو گزشتہ  دہائی کا سب سے پرعزم معاہدہ قرار دیا، کیونکہ اس میں صرف ٹیرف ہی نہیں، بلکہ خدمات اور مزدوروں کی نقل و حمل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ عالمی بینک 7 اکتوبر کو اپنی جنوبی ایشیا سے متعلق رپورٹ جاری کرے گا۔ اس سے قبل جون میں جاری رپورٹ میں بھارت کی جی ڈی پی شرحِ نمو کا اندازہ مالی سال 2026 کے لیے 6.5 فیصد اور آئندہ مالی سال کے لیے 6.7 فیصد لگایا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

LPU Student Protest: ایل پی یو میں طلبہ کا احتجاج بے قابو، پولیس کے ساتھ جھڑپ، فگواڑا-جالندھر ہائی وے جام، کئی گاڑیاں میں لگائی آگ

لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…

3 hours ago

Ashok Singhal Birth Centenary: اشوک سنگھل کی جنم صدی پر گونجا ’رام نام‘، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوجوانوں سے کیا اپیل

بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…

4 hours ago

Virat Kohli Century: ترواننت پورم میں ’کنگ کوہلی‘ کا طوفان! سنچری جڑ کر ویسٹ انڈیز کو کیا بے حال، ہندوستان نے 8 وکٹ سے ہرایا

 ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…

4 hours ago

Amit Shah Congress Challenge: امت شاہ کی کانگریس کو دوٹوک للکار، کہا- بے بنیاد دعوؤں کے بجائے اعداد و شمار کے ساتھ کریں بات

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…

5 hours ago