نئی دہلی—دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے کہا ہے کہ بی جے پی اور الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے ووٹ چوری جمہوریت کے خلاف ایک سنگین سازش ہے، جسے کسی بھی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات آج بابرپور ضلع کانگریس کمیٹی کی جانب سے منعقدہ دستخطی مہم کے دوران کہی۔
گھروں، بازاروں اور سڑکوں پر عوامی رابطہ مہم
دیویندر یادو نے بی جے پی کے مبینہ منظم منصوبے کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے گھر گھر جا کر ووٹ چوری پر بات کی اور شہریوں سے دستخط لیے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے مختلف علاقوں میں کانگریس کارکنان دکانداروں، ریہڑی پٹری والوں، مزدوروں، نائیوں، موچیوں اور چھوٹے کھانے پینے کے ڈھابوں پر کام کرنے والوں سے ملاقات کر کے ان کے دستخط حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دستخطی مہم کو دہلی کے عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہو رہی ہے اور تمام ضلع و بلاک کانگریس کمیٹیوں میں اس پر بحث و بیداری مہم جاری ہے۔ ساتھ ہی یوتھ کانگریس، ویمن کانگریس، سیوا دل اور این ایس یو آئی کے کارکنان بھی اپنے طور پر مہم میں سرگرم ہیں۔
’’ووٹ چوری ایک جرم ہے‘‘— دیویندر یادو
دیویندر یادو نے کہا: ’’ووٹ چوری جمہوریت کے خلاف ایک جرم ہے۔ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر عوام کے آئینی حق رائے دہی پر حملہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے اپنی بات چیت میں دو اسمبلیوں کی مثالیں دے کر بی جے پی کے ووٹ چوری منصوبے کو بے نقاب کیا، جس کے بعد خود الیکشن کمشنر نے اس پر تبصرہ کیا، اس سے سازش ثابت ہو گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پورے ملک میں کانگریس کی ہدایت پر ووٹ چوری کے خلاف دستخطی مہم چل رہی ہے اور دہلی میں بھی کارکنان پوری سرگرمی سے شامل ہیں۔
راہل گاندھی کے پیغام کی تشہیر
یادو نے کہا کہ مہم کے دوران عوام کو راہل گاندھی کے اس عزم سے بھی روشناس کرایا جا رہا ہے کہ: ’’ملک کے نوجوان، طلبہ اور جنریشن زی آئین کی حفاظت کریں گے، جمہوریت کو بچائیں گے اور ووٹ چوری کو روکیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی ووٹ چوری کی سازش کو ثبوتوں اور گواہوں کے ساتھ راہل گاندھی نے بے نقاب کیا ہے اور اب نوجوانوں کو متحد ہو کر اس کے خلاف لڑنا ہوگا۔
حکومت نے ووٹ چوری سے اقتدار حاصل کیا
دیویندر یادو نے کہا کہ کسی بھی حکومت کا پہلا فرض عوام کے اعتماد اور ان کے حقوق کی حفاظت ہے، مگر بی جے پی نے یہ اقتدار ایمانداری سے نہیں بلکہ ووٹ چوری اور سرکاری ایجنسیوں کے ساتھ سازباز کے ذریعے حاصل کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بھی ووٹ چوری کو عوامی طور پر تسلیم کیا ہے۔
’’اب حالات بدل رہے ہیں‘‘ — قاضی نظام الدین
دہلی کے انچارج قاضی نظام الدین نے کہا کہ اب بھارت کا نوجوان سمجھ چکا ہے کہ اصل لڑائی صرف نوکریوں کی نہیں بلکہ ووٹ چوری کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا: ’’جب تک چوری شدہ ووٹوں سے حکومت بنتی رہے گی، تب تک بے روزگاری اور بدعنوانی بھی بڑھتی رہے گی۔ آج کا نوجوان نہ نوکری کی لوٹ سہے گا، نہ ووٹ کی چوری۔‘‘ قاضی نظام الدین نے مزید کہا کہ ملک میں بے روزگاری 45 سال کی بلند ترین سطح پر ہے اور اس کی بڑی وجہ ووٹ چوری ہے، کیونکہ عوامی اختیار کو چھین کر اقتدار میں آنے والے عوامی مسائل سے بے نیاز رہتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص رہا۔ اس خاص…
سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…
سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…
17 ستمبر سے 17 اکتوبر تک ’سیوا سنکلپ ابھیان‘، وارانسی سے وڈ نگر اور وڈ…
بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…
شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…