بین الاقوامی

50% Tariffs Must Be Eliminated: بھارت پر عائد پچاس فیصد ٹیرف کیا جائے ختم، ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ کے ٹیرف فیصلے کو  کیا چیلنج

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد بھاری ٹیرف کے خلاف امریکی کانگریس میں مخالفت سامنے آ گئی ہے تین ڈیموکریٹک اراکین کانگریس نے کھل کر اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے پچاس فیصد ٹیرف ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کی رکن ڈیبورا راس نارتھ کیرولائنا مارک ویزی ٹیکساس اور راجہ کرشن مورتی ایلی نوائے نے ایک قرارداد پیش کی ہے۔ جس میں اس قومی ایمرجنسی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جس کی بنیاد پر ٹرمپ انتظامیہ نے بھارتی درآمدات پر ٹیرف بڑھایا تھا۔ ڈیموکریٹک اراکین ڈیبورا راس مارک ویجی اور بھارتی نژاد راجا کرشن مورتی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ ٹیرف غیر قانونی ہیں امریکی مفادات کے خلاف ہیں اور اس سے سب سے زیادہ نقصان عام امریکی شہریوں کو ہو رہا ہے ۔ان کے مطابق یہ دراصل روزمرہ استعمال کی اشیا پر امریکی عوام پر اضافی ٹیکس ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے یکم اگست دو ہزار پچیس کو بھارت پر پچیس فیصد ٹیرف عائد کیا تھا ۔بعد ازاں ستائیس اگست دو ہزار پچیس کو روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر بھارت پر اضافی پچیس فیصد سیکنڈری ٹیرف لگانے کا اعلان کیا گیا ۔جو پہلے سے نافذ پچیس فیصد ریسپروکل ٹیرف کے علاوہ تھا۔ان دونوں ٹیرف کے نتیجے میں کئی بھارتی مصنوعات کی درآمدی لاگت تقریباً دگنی ہو گئی تھی ۔ صدرٹرمپ کا مؤقف تھا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔ جس سے یوکرین جنگ کے لیے ماسکو کو مالی مدد مل رہی ہے۔ ان پالیسیوں کے نفاذ کے لیے ٹرمپ نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کا سہارا لیا تھا۔ٹیرف پر ڈیموکریٹک اراکین کا کہنا ہے کہ ڈیبورا راس کے مطابق نارتھ کیرولائنا کی معیشت بھارت سے گہرے طور پر جڑی ہوئی ہے۔ بھارتی کمپنیوں نے یہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور ہزاروں نوکریاں فراہم کی ہیں یہ ٹیرف اس تعلق کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

مارک ویزی نے کہا کہ یہ غیر قانونی ٹیرف نارتھ ٹیکساس کے عام لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رہے ہیں ۔بھارت ہمارا ثقافتی اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔راجہ کرشن مورتی کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات سپلائی چین کو متاثر کر رہے ہیں ۔امریکی مزدوروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور یوزر پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ ٹیرف ختم ہونے سے امریکہ اور بھارت کے اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔یہ قرارداد امریکی کانگریس میں اس وسیع مہم کا حصہ ہے۔ جس کے تحت صدر کے ہنگامی اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اراکین کا کہنا ہے کہ آئین کے مطابق تجارتی پالیسی بنانے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے صدر کے پاس نہیں یہ قرارداد فی الحال ایوان نمائندگان میں پیش کی جا چکی ہے۔ اگر یہ منظور ہو جاتی ہے تو سینیٹ میں بھی اسی نوعیت کے بل پر ووٹنگ ہوگی اور خصوصی اکثریت کی صورت میں صدر کے ویٹو کو بھی ختم کیا جا سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

9 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

10 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

11 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

11 hours ago