انٹرٹینمنٹ

Sanjay Leela Bhansali’s Series ‘Heeramandi: سنجے لیلا بھنسالی  آخر کیوںطوائفوں پر فلم بناتے ہیں؟ سیکس ورکرز کو 20 روپے میں اپنے آپ کو فروخت کرتے دیکھا ہے

اب وویک رنجن اگنی ہوتری نے سنجے لیلا بھنسالی کی سیریز ‘ہیرامنڈی’ پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ درحقیقت جب ایک پاکستانی ڈاکٹر نے سیریز پر کڑی تنقید کی تو ڈائریکٹر بھی تبصرہ کرنے سے اپنے آپ کو نہیں روک سکے۔ انہوں نے ایکس پر شو پر تنقید کرنے پر پاکستانی ڈاکٹر کی تعریف کی۔

وویک رنجن اگنی ہوتری نے لکھا، ‘میں نے شو نہیں دیکھا، لیکن میں لاہور کی  ہیرامنڈی  میں گیا ہوں۔ بالی ووڈ میں طوائفو ں اور کوٹھوں کو رومینٹک  بنانے کا رجحان ہے۔ یہ افسوسناک ہے، کیونکہ کوٹھے کبھی بھی دولت، رونق یا خوبصورتی کی جگہ نہیں رہے ہیں۔ یہ انسانی ناانصافی، درد اور مصائب کی یادگار ہیں۔ اس سے ناواقف لوگ شیام بینیگل کی ‘منڈی’ دیکھیں۔

سنجے لیلا بھسالی کی نیٹ فلکس سیریز ہیرامنڈی ان دنوں خبروں میں ہے۔ مشہور فلمساز سنجے لیلا بھنسالی ان دنوں اپنی ویب سیریز ‘ہیرامنڈی دی ڈائمنڈ بازار’ کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ اس سیریز کے ساتھ  انہوں نے OTT پر بھی اپنا ڈیبیو کیا ہے۔ اسے سامعین کی طرف سے ملا جلا ردعمل مل رہا ہے۔ اب حال ہی میں ہدایت کار نے اس سیریز کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے اندر یہ کہانی سنانے کا جذبہ کیسے بیدار ہوا۔

 ہیرامنڈی برسوں کی محنت ہے

سیریز بنانا مشکل ہے، لیکن ہم نے اسے بنایا ہے اور میں نے اس کا لطف لیاہے۔ میں خوش ہوں اور بگھوان کا شکر گزار ہوں کہ ہم نے اسے بنایا۔ م 14 سال کی منصوبہ بندی، ا 18 سال س کے ساتھ رہنا اوردو سال ڈیزائننگ ، تو اس میں بہت سا را کام گیاہے۔

بچپن کی وہ بات نہیں بھولا

سنجے لیلا بھنسالی نے کہا تھا کہ آپ بچپن میں جو دیکھتے ہیں اس سے حساس ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے سیکس ورکرز کو 20 روپے میں اپنے آپ کو گاہکوں کو فروخت کرتے دیکھا ہے۔ سنجے کہتے ہیں کہ انسان کی قیمت 20 روپے کیسے ہو سکتی ہے؟ کچھ چیزیں ایسی تھیں جو میرے دماغ  میں رہ گئی۔ لیکن میں انہیں ٹھیک سے نہیں بتا سکا۔ میں انہیں چندر مکھی کے ذریعے ڈھونڈتا ہوں… ہم انمول ہیں، ہماری قدر کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ہمیں 5، 20 یا 50 روپے میں فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ یہ غیر انسانی ہے۔

میک اپ کے پیچھے کا درد

بھنسالی نے بتایا تھا، آپ  جب ہر روزاسکول جاتے ہیں اور یہ سب دیکھنے کے لئے حساس ہوتے ہیں… لیکن ان کے چہروں پر بے شمار کہانیاں ہوتی  تھیں۔ وہ بہت زیادہ میک اپ کرتی تھی۔ وہ بہت پینٹ اور پاؤڈر لگاتی تھیں، اس کی بدحالی دیکھو۔ تم اس غم کو کیسے چھپا سکتے ہو؟ آپ چھپا نہیں سکتے۔ یہ بڑے سے بڑے میک اپ آرٹسٹ بھی  ایسا نہیں کر سکتا۔

بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Akhilesh Yadav’s Reaction After Meeting Azam Khan: ’’اعظم تھے، اعظم ہیں اور اعظم رہیں گے‘‘، رام پور جیل میں اکھلیش یادو اور اعظم خان کے درمیان کیا بات ہوئی؟

2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے…

17 minutes ago

India ITME 2026: انڈیا آئی ٹی ایم ای 2026، گریٹر نوئیڈا میں جمع ہوگی دنیا بھر کی ٹیکسٹائل صنعت، 40 سے زائد ممالک کی شرکت

انڈیا آئی ٹی ایم ای 2026 اس دسمبر گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے جا رہا…

34 minutes ago

Adani Group: اڈانی انرجی سولیوشنز کے دوسری سہ ماہی کے نتائج شاندار، EBITDA میں 67 فیصد کا زبردست اضافہ

اڈانی انرجی سولیوشنز لمیٹڈ (AESL) نے مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی کے نتائج…

1 hour ago