انٹرٹینمنٹ

Rashmika Mandana Warning: ’اب اور خاموش نہیں رہوں گی…‘، شادی کے بعد رشمیکا نے کیوں دی قانونی کارروائی کی دھمکی؟

ساؤتھ کی معروف اداکارہ رشمیکا مندانا حالیہ دنوں میں کافی خبروں میں رہیں، جس کی وجہ 26 فروری کو ادے پور میں اداکار وجے دیوراکونڈا سے ان کی شادی رہی۔ تاہم 12 مارچ کواداکارہ نے انسٹاگرام پر ایک اسٹوری شیئر کرتے ہوئے آٹھ سال پرانے ایک معاملے کا ذکر کیا۔ رشمیکا نے اپنی اسٹوری میں میڈیا اور انفلوئنسرز پر سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ مہم ان کے خلاف یا ان سے جڑے لوگوں کے خلاف اسی طرح چلتی رہی تو وہ اس معاملے میں قانونی کارروائی کرنے پر مجبور ہوں گی۔

تنازع کہاں سے شروع ہوا؟

سال 2017 میں رشمیکا مندانا نے کنڑ اداکار رکشت شیٹی سے منگنی کی تھی، لیکن یہ رشتہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا اور بعد میں دونوں نے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ تاہم رکشت شیٹی سے جڑا تنازع آج بھی رشمیکا کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا ہے۔ حال ہی میں رشمیکا کی شادی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کلپ وائرل ہو رہا ہے، جس کے بعد اداکارہ نے آج اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑی ہے۔ اس آڈیو میں رشمیکا کی والدہ سمن مندانا مبینہ طور پر رکشت شیٹی سے اداکارہ کو ہونے والی ہراسانی کے بارے میں بات کرتی ہوئی سنائی دیتی ہیں۔ تاہم اب رشمیکا نے اس معاملے پر بیان جاری کرتے ہوئے انفلوئنسرز اور میڈیا کو خبردار کیا ہے۔

رشمیکا نے انسٹاگرام اسٹوری میں کیا لکھا؟

رشمیکا نے اسٹوری شیئر کرتے ہوئے میڈیا اور انفلوئنسرز پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا،“میرے ان تمام عزیز لوگوں کے نام، جو اب تک اس حیرت انگیز سفر میں میرے ساتھ رہے ہیں، اور اس معاملے سے جڑے دیگر افراد کے لیے۔ مجھے نشانہ بنا کر میڈیا کے ایک حصے اور کچھ آن لائن لوگوں کی جانب سے غلط معلومات، ہراسانی اور منظم حملوں کی مہم کو شروع ہوئے آٹھ سال ہو چکے ہیں۔”

“میں اب تک خاموش تھی، لیکن میرے خاندان کے لیے…”

رشمیکا مندانا نے ٹرولرز کو جواب دیتے ہوئے لکھا، “اس دوران انہوں نے میرے خاندان اور ان لوگوں کو بھی اس معاملے میں گھسیٹ لیا ہے جن سے میرے اچھے تعلقات ہیں اور جن کا اس تنازع سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ نجی زندگی کی سنگین خلاف ورزی ہے اور گمراہ کن اور ہتک آمیز مواد کو پھیلایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم زندگی میں آگے بڑھنے، سیکھنے، بامعنی کام کرنے اور مثبتیت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کچھ لوگ کسی دوسرے کی عزت اور سکون کی قیمت پر نفرت اور تنازع پیدا کرنے میں لگے رہتے ہیں۔”

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Bharat Express Urdu Conclave: اردو کو رسم الخط میں نہ باندھو، یہ دلوں کی زبان ہے، بزمِ صحافت میں بولے شاہد صدیقی

اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…

58 minutes ago

11th Whiteswan Responsible Art Festival: 11واں وائٹ سوان آرٹ فیسٹیول: کتھک رقاصہ سنیہا مکھرجی نے مسحور کن پیشکش سے باندھا سماں

سنیہا مکھرجی نے کلیان ٹھات میں رام استوتی اور راگ کلاوتی میں ترانہ پیش کیا،…

2 hours ago