انٹرٹینمنٹ

National Commission for Women: مبینہ قابل اعتراض مواد پر قومی کمیشن برائے خواتین سخت، پرنیت مورے، ہمانشو جانگڑا اور مدھر ورلی کو سمن جاری

نئی دہلی: اسٹینڈ اَپ کامیڈی اور سوشل میڈیا کے مواد کو لے کر جاری تنازعہ مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ خواتین سے متعلق مبینہ قابلِ اعتراض مواد اور تبصروں کے معاملے میں قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) نے کامیڈین پرنیت مورے، ہمانشو جانگڑا اور مدھر ورلی کو سمن جاری کرتے ہوئے ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ان معاملات کی سماعت 22 جون 2026 کو شام 4 بجے نئی دہلی میں واقع قومی کمیشن برائے خواتین کے دفتر میں ہوگی۔ کمیشن نے تینوں افراد کو ذاتی طور پر حاضر ہونے کے لیے کہا ہے۔ یہ تنازع مختلف اسٹینڈ اَپ شوز اور ان کی وائرل ویڈیوز سے متعلق ہے، جن میں خواتین کے بارے میں کیے گئے بعض تبصروں پر عوامی سطح پر اعتراضات سامنے آئے ہیں۔

پرنیت مورے نے وائرل ویڈیو کے بعد کی تھی معذرت

پرنیت مورے سے متعلق تنازع میں الزام ہے کہ انہوں نے اپنے شو کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال کو مناسب طریقے سے سنبھالنے میں ناکامی دکھائی۔ وائرل ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہوں نے عوامی طور پر معذرت بھی کی تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ اس موقع پر انہیں بہتر فیصلہ کرنا چاہیے تھا، لیکن وہ ماحول کے دباؤ میں آ گئے اور مناسب فیصلہ نہیں کر سکے۔ اسی تنازع سے وابستہ ایک اور شخص ہمانشو جانگڑا ہیں، جو پرنیت مورے کے لائیو شو میں بطور ناظر موجود تھے۔ اس دوران انہوں نے اپنے ڈیٹنگ کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ایک خاتون پر تقریباً 370 روپے کی چکن بریانی خرچ کی تھی۔ بعد میں اس حوالے سے ان کے مزید تبصروں پر سوشل میڈیا پر شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اسٹاروک ڈیزائن کمپنی نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا۔

مدھر ورلی کے پرانے ویڈیو پر بھی تنازع

تیسرا نام مدھر ورلی کا ہے، جن کا ایک پرانا اسٹینڈ اَپ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد تنازع کا سبب بنا۔ اس ویڈیو میں انہوں نے عصمت دری جیسے نہایت حساس موضوع پر غیر حساس اور قابلِ اعتراض تبصرے کیے تھے۔ انہوں نے جرائم کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ زیادہ تر معاملات میں صرف عصمت دری ہوتی ہے، جبکہ بعض کیسوں میں متاثرہ خاتون کو قتل بھی کر دیا جاتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے اس کی ایک نہایت قابلِ اعتراض اور غیر مناسب توجیہ پیش کی، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ ان تبصروں کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر تنقید دیکھنے میں آئی۔ متعدد صارفین نے ان بیانات کو خواتین کی توہین، غیر ذمہ دارانہ اور حساس جرائم کے بارے میں نامناسب قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-

Habiburrahman

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

2 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

3 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

3 hours ago