انٹرٹینمنٹ

Majrooh Sultanpuri: مجرُوح  سلطان پوری  نے 300 سے زیادہ فلموں کے گیت لکھے، دادا صاحب پھالکے ایوارڈ پانے والے پہلے نغمہ نگار

نئی دہلی : مشہور نغمہ نگار مجروح سلطان پوری کے لکھے گیت آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں۔ محبت، درد، دوستی اور زندگی کے مختلف رنگوں کو انہوں نے اتنے آسان اور عام فہم الفاظ میں پیش کیا کہ ان کے گیت براہ راست لوگوں کے دلوں تک پہنچ گئے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ جس فلمی دنیا میں انہوں نے پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے تک کام کیا، اس میں قدم رکھنے کے لیے وہ ابتدا میں تیار نہیں تھے۔ انہیں فلموں کے لیے گیت لکھنا خاص پسند نہیں تھا اور ایک مشہور شاعر کو انہیں راضی کرنے کے لیے کافی کوشش کرنی پڑی تھی۔

سلطان پور میں پیدا ہوئے مجروح

مجرُوح سلطان پوری کی پیدائش 1 اکتوبر 1919 کو اتر پردیش کے سلطان پور میں ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام اسرار حسن خان تھا۔ ان کے والد پولیس محکمہ میں ملازم تھے اور انہوں نے اپنے بیٹے کی ابتدائی تعلیم مدرسے میں کرائی۔ بعد میں مجروح نے یونانی طب کی تعلیم حاصل کی اور کچھ عرصے تک حکیم کے طور پر بھی کام کیا، لیکن ان کی اصل دلچسپی شاعری میں تھی۔مشاعروں میں ان کی شاعری کو خوب پذیرائی ملنے لگی اور آہستہ آہستہ انہوں نے شاعری کو ہی اپنی زندگی کا راستہ بنا لیا۔

جگر مرادآبادی نے فلموں میں آنے کے لیے آمادہ کیا

مجرُوح کی شاعری کو سمت دینے والی اہم شخصیات میں مشہور شاعر جگر مرادآبادی کا نام نمایاں ہے۔ 1945 میں ممبئی کے ایک مشاعرے میں مجروح نے اپنی شاعری پیش کی۔ وہاں فلمساز اے آر کاردار نے انہیں سنا اور اپنی فلم کے لیے گیت لکھنے کی پیشکش کی، لیکن مجروح نے یہ پیشکش ٹھکرا دی۔ان کا خیال تھا کہ فلمی گیت لکھنا ان کی شاعری کے مقابلے میں کم تر کام ہے۔ اس کے بعد جگر مرادآبادی نے انہیں سمجھایا کہ فلموں کے لیے گیت لکھنے سے اچھی آمدنی ہوگی اور وہ اس کے ذریعے اپنے خاندان کی مدد بھی کر سکیں گے۔ آخرکار مجروح اس کے لیے تیار ہوگئے۔

اس کے بعد کاردار انہیں موسیقار نوشاد کے پاس لے گئے۔ نوشاد نے مجروح کو ایک دھن اور اس کا میٹر دیا اور اس پر کچھ لکھنے کو کہا۔ مجروح نے اسی بنیاد پر ’’جب اس نے گیسو بکھرائے، بادل آئے جھوم کے‘‘ لکھا۔ نوشاد کو ان کا لکھا پسند آیا اور اس کے بعد 1946 میں ریلیز ہونے والی فلم ’’شاہ جہاں‘‘ سے مجروح کے فلمی گیتوں کا سفر شروع ہوا۔اسی فلم میں ان کا لکھا گیت ’’جب دل ہی ٹوٹ گیا‘‘ بھی شامل تھا، جسے کے ایل سہگل نے اپنی آواز دی تھی۔

انداز سے جویل تھیف تک یادگار گیت

شاہ جہاں کے بعد مجروح نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انداز، آر پار، مسٹر اینڈ مسز 55، سی آئی ڈی، نو دو گیارہ، کالا پانی، سجاتا، گائیڈ اور جویل تھیف جیسی فلموں کے لیے انہوں نے یادگار گیت لکھے۔ایس ڈی برمن، او پی نیئر، آر ڈی برمن، نوشاد اور کئی دوسرے معروف موسیقاروں کے ساتھ ان کی شاندار جوڑی بنی۔ وقت اور بدلتے ہوئے دور کے ساتھ ان کے گیتوں کے موضوعات اور انداز بھی بدلتے رہے، لیکن ان کی مقبولیت برقرار رہی۔

نئی نسل کے لیے بھی لکھے مقبول گیت

مجرُوح نے نئی نسل کے لیے بھی کئی مقبول گیت لکھے۔ قیامت سے قیامت تک کا پاپا کہتے ہیں بڑا نام کرے گا، جو جیتا وہی سکندر کا پہلا نشہ اور ہم کسی سے کم نہیں جیسے گیتوں کو لوگوں نے بے حد پسند کیا۔پانچ دہائیوں سے زیادہ طویل فلمی سفر کے دوران مجروح نے تقریباً 350 فلموں کے لیے ہزاروں گیت لکھے۔

دادا صاحب پھالکے ایوارڈ پانے والے پہلے نغمہ نگار

مجرُوح سلطان پوری کے فن کو کئی بڑے اعزازات سے نوازا گیا۔ فلم دوستی کے گیت چاہوں گا میں تجھے سانجھ سویرے کے لیے انہیں 1965 میں فلم فیئر کا بہترین نغمہ نگار ایوارڈ ملا۔1993 میں وہ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے نغمہ نگار بنے۔ ادب کے شعبے میں بھی انہیں غالب ایوارڈ اور اقبال جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔مجرُوح سلطان پوری کا انتقال 80 سال کی عمر میں 24 مئی 2000 کو ممبئی میں ہوا۔ ان کے لکھے گیت آج بھی ہندوستانی فلمی موسیقی اور عوامی یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Green Energy Corridor Phase-III: وزیراعظم کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے گرین انرجی کوریڈور فیز-III اسکیم کو دی منظوری

اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس…

7 minutes ago

Ujjain Violence: شاہی مسجد تنازع کے بعد 20 گرفتار، 30 افراد کے خلاف ایف آئی آر

پولیس کا کہنا ہے کہ مسجد کو مکمل طور پر منہدم کیے جانے کے جعلی…

9 minutes ago

From Small-Town India To Lord’s: چھوٹے شہر سے لارڈز تک، کرانتی گوڑ اور یستیکا بھاٹیا نے کرکٹ میں رقم کردی تاریخ

کرانتی نے انگلینڈ کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹ حاصل کرکے لارڈز میں ٹیسٹ کرکٹ…

2 hours ago