ہنسیکا موٹوانی نے بھابی مسکان کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ درج کرایا ہے۔ (فائل فوٹو)
ٹی وی اوربالی ووڈ اداکارہ ہنسیکا موٹوانی گزشتہ کافی وقت سے اپنی پرسنل لائف سے متعلق سوشل میڈیا پرسرخیوں میں ہیں۔ اداکارہ نے سہیل کتھوریا سے شادی کی تھی، لیکن گزشتہ مارچ میں ان کا طلاق ہوگیا۔ شادی کے تقریباً 4 سال بعد دونوں کا رشتہ ختم ہوا۔
ہنسیکا موٹوانی نے بھابھی مسکان پرکیس کیا
وہیں، اب اداکارہ ایک بارپھرخاندانی جھگڑے کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ ہنسیکا موٹوانی نے حال ہی میں اپنی سابق بھابھی، ٹی وی اداکارہ مسکان نینسی جیمزکے خلاف سخت کارروائی کی۔ انہوں نے ممبئی کی سیشن کورٹ میں اپنی بھابھی کے خلاف 2 کروڑروپئے کا ہتک عزت کا مقدمہ دائرکیا ہے۔
کہاں سے شروع ہوا تنازعہ؟
دراصل، مسکان نینسی جیمزنے سابق شوہراورہنسیکا موٹوانی کے بھائی پرشانت موٹوانی کے خلاف گھریلوتشدد کے الزام لگائے تھے۔ ایسے میں ہنسیکا موٹوانی نے اپنی سابق بھابھی کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ درج کراتے ہوئے عدالت سے مطالبہ کیا کہ مسکان نینسی جیمزپران کے اوپرآگے ایسا بیان دینے سے روک لگائی جائے۔ ہنسیکا موٹوانی نے ایڈوکیٹ عدنان شیخ کی مدد سے عدالت میں عرضی داخل کی۔ عرضی کے مطابق، ہنسیکا موٹوانی کا کہنا ہے کہ یہ الزام پوری طرح جھوٹ اوران کی شبیہ خراب کرنے کے لئے سوشل میڈیا پرپھیلائے گئے ہیں۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دعوے مبینہ 27 لاکھ روپئے کے لون کو نہ ادا کرنے سے متعلق ہیں۔
ہنسیکا موٹوانی نے کیا یہ بڑا مطالبہ
عرضی میں یہ بھی بتایا گیا کہ انہوں نے کئی بارسابق بھابھی مسکان نینسی جیمز سے پیسے واپس مانگے، لیکن انہوں نے نہیں دیئے۔ ہنسیکا موٹوانی نے اپنی عرضی میں واضح کیا کہ ان کا بھائی اورمسکان کی شادی میں کوئی دخل نہیں رہا، کیونکہ وہ ان کے ساتھ نہیں رہتی تھیں۔ واضح رہے کہ ہنسیکا موٹوانی کے بھائی پرشانت اورمسکان کی شادی سال 2020 میں ہوئی تھی، لیکن 2022 سے ہی دونوں الگ رہ رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو-
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…
وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…
ڈاکٹر کا الزام ہے کہ فلیٹ میں اتولیا سمیت 12 افراد موجود تھے۔ جیسے ہی…
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…
یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…
وزیراعظم مودی کے نام لکھے گئے خط میں ماہر تعلیم اور ممتاز دانشور پروفیسر اخترالواسع…