بھارتی جہاز جگ وکرم
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان بھارت کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ بھارتی پرچم بردار جہاز جگ وکرم کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزر کر آگے بڑھ گیا ہے، جس سے ملک میں ایل پی جی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس پیش رفت کی تصدیق وزارت پیٹرولیم نے کرتے ہوئے بتایا کہ جہاز میں تقریباً 20 ہزار 400 میٹرک ٹن ایل پی جی موجود ہے۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث اہم تجارتی راستے متاثر ہو رہے تھے۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، حالیہ تنازعات کے باعث غیر یقینی صورتحال کا شکار رہا۔ ایسے میں ’جگ وکرم‘ کا بحفاظت اس راستے سے گزرنا بھارت کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
وزارت کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک یہ نواں بھارتی جہاز ہے جو اس حساس راستے سے کامیابی کے ساتھ نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس سے قبل کئی جہازوں کو انتظار کرنا پڑا تھا، تاہم حالات میں جزوی بہتری کے بعد اب رفتہ رفتہ نقل و حمل بحال ہو رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت بھی خلیج فارس میں تقریباً 15 بھارتی جہاز موجود ہیں، جو محفوظ راستہ ملنے کے انتظار میں ہیں۔ ان جہازوں میں تیل اور گیس کی بڑی مقدار موجود ہے، جو بھارت کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کشیدگی سے قبل آبنائے ہرمز کے مختلف حصوں میں 28 بھارتی جہاز موجود تھے، جو تیل اور گیس لے کر بھارت روانہ ہونے کی تیاری میں تھے۔ ان میں سے کچھ جہاز کشیدگی بڑھنے سے پہلے ہی محفوظ طریقے سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تھے، جبکہ دیگر کو حالات معمول پر آنے کا انتظار کرنا پڑا۔ ’جگ وکرم‘ ایک درمیانے درجے کا گیس بردار جہاز ہے، جس کی مجموعی گنجائش 26 ہزار ٹن سے زائد ہے۔ اس وقت اس میں 20 ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ ایل پی جی موجود ہے، جو بھارت کے لیے ایک اہم سپلائی تصور کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس جہاز کی آمد سے گھریلو گیس کی دستیابی میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔
واضح رہے کہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ ملک تقریباً 88 فیصد خام تیل، 50 فیصد قدرتی گیس اور 60 فیصد سے زیادہ ایل پی جی بیرونِ ملک سے حاصل کرتا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کا حصہ نمایاں ہے۔ ایسے میں آبنائے ہرمز کی صورتحال براہِ راست بھارتی معیشت اور عام صارفین پر اثر انداز ہوتی ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید جہاز محفوظ راستے سے گزرنے میں کامیاب ہوں گے، جس سے سپلائی چین مستحکم ہوگی اور ملک میں گیس بحران کے خدشات مزید کم ہو جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…