انٹرٹینمنٹ

All India Mushaira at Fatehpur Sikri Dargah: درگاہ فتح پور سیکری میں رنگِ صوفیانہ کے موقع پر عظیم الشان آل انڈیا مشاعرہ کا انعقاد، راج کمار چاہر نے بطور مہمانِ خصوصی کی شرکت

نئی دہلی / آگرہ: حضرت سلیم چشتی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کے 456 ویں عرس مبارک کے موقع پر درگاہ فتح پور سیکری، آگرہ میں 24 اور 25 مارچ کو ’رنگِ صوفیانہ‘ پروگرام کے تحت ایک عظیم الشان آل انڈیا مشاعرہ منعقد کیا گیا۔ اس روحانی و ادبی تقریب میں فتح پور سیکری کے رکن پارلیمنٹ راج کمار چاہر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے راج کمار چاہر نے گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے پر زور دیا اور خاص طور پر مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ ہمیشہ سے امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیتی آئی ہے، جسے آج کے دور میں مزید عام کرنے کی ضرورت ہے۔

تقریب کی صدارت درگاہ کے سجادہ نشین پیرزادہ ارشد فریدی چشتی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ ’رنگِ صوفیانہ‘ کا مقصد چشتی صوفیانہ کلام کے ذریعے اخوت، محبت اور حب الوطنی کے جذبات کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کی سرزمین پر چشتیہ سلسلے کے بزرگوں نے ہمیشہ موسیقی اور صوفیانہ کلام کے ذریعے عشقِ الٰہی کو عام کیا ہے۔ حضرت شیخ سلیم چشتیؒ کی درگاہ دنیا بھر میں محبت اور روحانیت کا مرکز سمجھی جاتی ہے اور اسی پیغام کو نئی روح اور جوش کے ساتھ پیش کرنے کے لیے اس پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب کی اینکرنگ شاذیہ علیم نے انجام دی، جنہوں نے اپنی دلکش آواز میں شعرا کا تعارف کرایا۔ مشاعرہ میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے معروف شعرا نے شرکت کی اور اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مشاعرہ میں عالمی شہرت یافتہ شاعرہ ڈاکٹر منظر بھوپالی کے علاوہ ڈاکٹر ماجد دیوبندی، معین شاداب، وسیم راشد، ڈاکٹر مہتاب عالم، ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی، عمر اظہر، امیر اکبرآبادی، انکرت شریواستو، ابھیشک تیواری ملک، ڈاکٹر اندو گپتا، میناکشی ججویشا، بسمل فتح پوری، نظر فتح پوری اور پیکر نے اپنا کلام پیش کیا۔

مشاعرہ میں پیش کیے گئے چند منتخب اشعار حاضرین کی توجہ کا مرکز بنے:

ڈاکٹر منظر بھوپالی:
تو گرے بجلی اب کہاں کہاں دیکھیں گے
شاخ شاخ پر ہم بھی آشیاں بنائیں گے

ڈاکٹر ماجد دیوبندی:
اللہ میرے رزق کی برکت نہ چلی جائے
دو روز سے گھر میں کوئی مہمان نہیں ہے

معین شاداب:
دفتر وزیر کا ہو نہ دربارِ شاہ ہو
فریاد کرنے والوں کو کوئی خانقاہ ہو

ڈاکٹر مہتاب عالم:
دل بھی توڑا تو سلیقے سے نہ توڑا تونے
بے وفائی کے بھی آداب ہوا کرتے ہیں

ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی:
ہاں سلیم چشتی کا عرس ہم مناتے ہیں
رنگِ صوفیانہ سے محفلیں سجاتے ہیں

ابھیشک تیواری:
مجھے پھول و خوشبو کی چاہت نہیں ہے
محمدؐ کا مجھ کو پسینہ بنا دے

ڈاکٹر اندو گپتا:
مٹائے مٹ نہیں پاتا ترا نام ایسے انکت
بھلانے پر بھی یاد آئے یہ میرے دل کی حسرت ہے

تقریب کی نظامت معروف شاعر معین شاداب نے انجام دی۔ اس موقع پر سامعین کی بڑی تعداد موجود رہی اور مشاعرہ دیر رات تک جاری رہا۔ اس روحانی و ادبی محفل نے نہ صرف صوفیانہ روایات کو زندہ کیا بلکہ محبت، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے پیغام کو بھی عام کیا۔

بھارت ایکسپریس

Md Hammad

Recent Posts

Tej Pratap tried to enter the house: تیج پرتاپ نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی تھی، پہلی بار سامنے آئیں انوشکا یادو، ڈانڈیا پروگرام میں پہنچیں بیٹی کے ساتھ

انوشکا یادو اپنی بیٹی اُجّینی کے ساتھ ڈانڈیا کلاس میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔ انہوں…

34 minutes ago

A Chill in the Air in Delhi-NCR: دہلی-این سی آر میں سردی نے دی دستک، درجۂ حرارت 6 ڈگری تک گرا، آج بھی ہوگی بارش؟

کم سے کم درجۂ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی درج نہیں کی گئی، تاہم یہ…

1 hour ago

Lehra Do Tiranga March: دفعہ 163 نافذ، سینٹرل پارک دو دن کے لیے بند، سی جے پی کی ترنگا یاترا پر دہلی پولیس کا بیان

ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این…

2 hours ago

Punam Raut Quits International Cricket: پونم راوت نے بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا کیا اعلان

پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…

11 hours ago