انٹرٹینمنٹ

Farhan Akhtar Talks About His film journey: فرحان اختر نے اپنے فلمی سفر پر کی بات، بولے: ’ہدایت کاری کی خوشی الگ تھی، لیکن اداکاری سے ملنے والا سکون منفرد تھا‘

آئی اے این ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں فرحان اختر نے اپنے فلمی سفر اور اداکاری کی جانب بڑھتے رجحان کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔انہوں نے کہا، ’’میرا اداکاری کی طرف رجحان اچانک پیدا نہیں ہوا بلکہ یہ مختلف تجربات کا نتیجہ تھا۔ ابتدا میں میں خود کو صرف ایک ہدایت کار کے طور پر دیکھتا تھا، لیکن چند پروجیکٹس نے میری سوچ بدل دی۔ جب میں نے پہلی بار اداکاری کی تو محسوس ہوا کہ کیمرے کے سامنے کام کرنے کا تجربہ بالکل مختلف ہے اور اس میں تخلیقی اظہار کی ایک نئی دنیا موجود ہے۔ یہی تجربہ بعد میں میرے کیریئر کا اہم موڑ ثابت ہوا۔‘‘

’دی فقیر آف وینس‘ سے ہوا اداکاری کا آغاز

فرحان نے اپنے ابتدائی اداکاری کے تجربے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے دوست آنند سوراپور فلم ’دی فقیر آف وینس‘ بنا رہے تھے اور چاہتے تھے کہ وہ اس میں مرکزی کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا، “شروع میں یہ میرے لیے ایک نیا تجربہ تھا کیونکہ میں نے اس سے پہلے کبھی اداکاری نہیں کی تھی۔ لیکن جیسے ہی میں نے فلم پر کام شروع کیا، مجھے اس میں لطف آنے لگا۔ میں نے محسوس کیا کہ اداکاری مجھے ایک ایسی خوشی دے رہی ہے جو ہدایت کاری سے مختلف تھی۔”

’راک آن‘ نے بدل دی زندگی

فرحان اختر کے مطابق، بعد میں ان کی ملاقات ہدایت کار ابھشیک کپور سے ہوئی اور اسی دوران انہیں فلم ’راک آن‘ کی پیشکش ملی۔ انہوں نے کہا، ’’اس فلم نے میرے کیریئر کی سمت ہی بدل دی۔ فلم کی کہانی، کردار اور موسیقی نے مجھے اداکاری کے مزید قریب کر دیا۔ یہ صرف ایک فلم نہیں تھی بلکہ ایسا تجربہ تھا جس نے مجھے مستقبل میں بھی اداکاری جاری رکھنے کی ترغیب دی۔‘‘

کامیاب اداکاری کا سفر

فرحان نے بتایا کہ ’راک آن‘ کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اداکاری میں بے شمار امکانات موجود ہیں اور وہ اس میدان میں مزید بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’اسی سوچ کے ساتھ میں نے آگے بڑھ کر کئی فلموں میں کام کیا، جن میں ‘زندگی نہ ملے گی دوبارہ’، ‘بھاگ ملکھا بھاگ’ اور ‘دل دھڑکنے دو’ شامل ہیں۔ میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ ناظرین نے میرے کرداروں کو بے حد پسند کیا۔ ہر نئی فلم کے ساتھ میرا اعتماد بڑھتا گیا اور اداکاری میرے کیریئر کا ایک مضبوط حصہ بن گئی۔‘‘فرحان اختر کے مطابق ہدایت کاری اور اداکاری دونوں تخلیقی شعبے ہیں، لیکن دونوں کا تجربہ اور حاصل ہونے والا اطمینان ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے، اور یہی تنوع ان کے فلمی سفر کو خاص بناتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

6 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

7 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

7 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

8 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

8 hours ago