انٹرٹینمنٹ

Ridhi Dogra on being ‘bullied’ for working with Fawad Khan: ردھی ڈوگرا نے فلم ’عبیر گلال‘ کے خلاف اٹھائی آواز، ہوئیں ٹرول،آن لائن بدسلوکی کا بھی کرنا پڑاسامنا

پاکستانی اداکار فواد خان 9 سال بعد فلم عبیر گلال سے بالی ووڈ میں واپسی کرنے والے تھے، لیکن اسے روک دی گئی۔ یہ فلم 9 مئی کو سینما گھروں میں ریلیز ہونا تھی، لیکن اب بھارت میں اس پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ فلم میں فوادخان کے ساتھ وانی کپور اور ردھی ڈوگرا بھی مرکزی کردار میں تھیں۔ جب ردھی ڈوگرا نے اس فلم کے خلاف آواز اٹھائی تو انہیں اس کے لیے ٹرول کیا گیا اور آن لائن بدسلوکی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اداکارہ نے اس حوالے سے بات کی ہے۔

پاکستانی اداکار کے ساتھ کام کرنے پر ردھی  ڈوگارکو ٹرول کیا گیا۔

ردھی  ڈوگراجموں میں پیدا ہوئیں اور وہیں  پرورش پائی۔ پہلگام میں ہونے والے حملے نے انہیں بھی  ذہنی  پریشانی دی،  وہ معاملے کو لے کر کافی غم زدہ رہیں ۔ اداکارہ  ردھی ڈوگراکا کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت کی حمایت میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ،تاہم اس کے بعد وہ ٹرول  کیا جانے لگا۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے بہت بری طرح سے ٹرول کیا گیا۔ لوگوں نے کہا، “ارے، لیکن اس نے ایک پاکستانی اداکار کے ساتھ کام کیا ہے،” جیسے کہ یہی بات مجھے پوری طرح  سے واضح کردیتی ہو،  اس کے باوجود ردھی  ڈگراپنی سوچ پر قائم رہیں۔

ردھی  ڈوگرانے ایچ ٹی سے  بات چیت میں کہا، “مجھے دھمکانے کی کوشش نہ کریں۔ میں ابھی اس ملک کی اتنی ہی شہری ہوں جتنا آپ ہیں۔ جب میں نے وہ کام کیا تھا،  تب میں نے اپنے ملک کے قوانین کا پورا خیال رکھا تھا ، میں نے کوئی بھی غیر قانونی کام نہیں کیا۔ اور آج جب ہم ایسے حالات میں ہیں، مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے ملک، اپنی فوج کے ساتھ کھڑی  رہنا  چاہتی وں۔ اور  یہ میں  اس لیے نہیں کہہ رہی ہوں، کیونکہ میں کوئی  خاص انسان ہوں، بلکہ  اس لئے  کہہ رہی ہوں   کیوں کےآ پ سب بھی ایک اہم انسان ہیں۔”

خاندان خطرے میں تھا، پریشان تھی

ردھی  ڈوگرانے بتایا کہ یہ بہت خوفناک تھا۔ ردھی  ڈوگرانے اپنی پریشانی اور خوف کا اظہار کیا کہ وہ اپنے شہر میں حالات کو دور سے کیسے دیکھ رہی تھیں، جب ان کے آبائی شہر کو براہ راست خطرہ تھا۔ انہوں نے کہا، “یہ بہت خوفناک تھا۔ ہم جموں میں اپنے خاندان اور امرتسر میں رشتہ داروں سے مسلسل فون پر جڑے ہوئے تھے۔ وہاں مکمل بلیک آؤٹ تھا۔ اپنے گھروں کی چھتوں سے، وہ آسمان پر عجیب و غریب روشنیاں اور اڑتی ہوئی چیزیں دیکھ سکتے تھے۔ اور ہم صرف بیٹھ کر انتظار ہی کر سکتے تھے۔”

“عجیب بے بسی کا احساس تھا، میں دعائیں مانگ رہی تھی ، رو رہی تھی، بس یہی خواہش تھی کہ وہاں سب محفوظ رہیں، ساتھ ہی میں اپنی فوج کے لیے گہرا شکر ادا کر رہی تھی، وہ سرحد پر جو کچھ کر رہے ہیں،ہمارے لئے ہماری  نیند میں بھی، ہماری حفاظت کر رہے ہیں، وہ قرض کبھی چکایا نہیں جا سکتا، ایسا ڈر تو آپ اپنے دشمن کے لئے بھی  نہیں چاہیں گے۔”

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

6 minutes ago

Delhi HC Order: پی ایم مودی کے ساتھ اپنی مبینہ ڈیپ فیک تصویر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے دیا یہ حکم

عدالت نے میٹا کو مبینہ قابل اعتراض تصویر ہٹانے کی ہدایت دی، کاکروچ جنتا پارٹی…

1 hour ago

Sanjay Mishra Autobiography: ’میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں، پھر بھی لکھوں گا…‘ نیشنل ایوارڈ یافتہ سنجے مشرا لا رہے ہیں اپنی خودنوشت

’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…

2 hours ago