ممبئی: ہندی فلم انڈسٹری کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اداکاراؤں کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ انہی میں ایک نام سُلکشنا پنڈت کا ہے، جنہوں نے اپنی خوبصورتی، شاندار اداکاری اور سریلی آواز سے برسوں تک ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
موسیقی سے وابستہ گھرانے میں جنم
مقبول اداکارہ اور پلے بیک سنگر سُلکشنا پنڈت کی پیدائش 12 جولائی 1954 کو چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ میں ایک ممتاز موسیقی گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد اور چچا دونوں کلاسیکی گلوکار تھے۔ معروف موسیقار جوڑی جتن-للت ان کے بھائی ہیں، جنہوں نے 1990 اور 2000 کی دہائی میں متعدد سپر ہٹ فلموں کے لیے لازوال دھنیں ترتیب دیں۔ ان میں دل والے دلہنیا لے جائیں گے، کچھ کچھ ہوتا ہے اور محبتیں جیسی فلمیں شامل ہیں۔
اداکاری اور گلوکاری، دونوں میدانوں میں کامیابی
سُلکشنا پنڈت ان اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جنہوں نے 1970 اور 1980 کی دہائی میں بالی ووڈ میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ انہوں نے جیتندر، سنجیو کمار، راجیش کھنہ، ونود کھنہ، ششی کپور، امیتابھ بچن اور شتروگھن سنہا جیسے صفِ اول کے اداکاروں کے ساتھ متعدد کامیاب فلموں میں کام کیا۔
گھر میں موسیقی کے ماحول کی وجہ سے انہیں بچپن ہی سے گلوکاری کا شوق تھا۔ انہوں نے صرف نو برس کی عمر میں پلے بیک سنگر کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 1967 میں فلم ’تقدیر‘ کے گیت ’سات سمندر پار سے‘ میں لتا منگیشکر کے ساتھ اپنی آواز کا جادو بکھیرا۔
ستر سے زائد فلموں میں گیت
سُلکشنا پنڈت نے بطور پلے بیک سنگر ستر سے زائد فلموں میں اپنی آواز دی۔ ان کے مشہور نغموں میں موسم موسم لوولی موسم، جب آتی ہوگی یاد میری، بے قرار دل تو گائے جا، پیارے پیارے سے لگتے ہیں آپ، پردیسیا تیرے دیش میں، دلِ نادان تجھے ہوا کیا ہے اور تم جو مل گئے شامل ہیں۔ انہیں 1975 میں فلم سنکلپ کے لیے بہترین خاتون پلے بیک سنگر کے فلم فیئر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
فلمی سفر کی کامیاب داستان
انہوں نے 1975 میں سنجیو کمار کے ساتھ فلم ’الجھن‘ سے اداکاری کا آغاز کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی یادگار فلموں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کی نمایاں فلموں میں ہیرا پھیری، اپناپن، وقت کی دیوار، پھانسی، دو وقت کی روٹی اور دھرم کانٹا شامل ہیں، جن میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیے۔
ایک ادھوری محبت جس نے زندگی بدل دی
اگرچہ فلمی دنیا میں سُلکشنا پنڈت کو بے پناہ کامیابی ملی، لیکن ان کی ذاتی زندگی دکھوں سے بھرپور رہی۔ فلم الجھن کی شوٹنگ کے دوران وہ اداکار سنجیو کمار سے محبت کرنے لگیں۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے سنجیو کمار کو شادی کی پیشکش بھی کی، مگر انہوں نے یہ پیشکش قبول نہیں کی، جس سے سُلکشنا شدید دل برداشتہ ہوئیں۔
دو بڑے صدموں نے تنہائی کا راستہ دکھایا
6 نومبر 1985 کو صرف 47 برس کی عمر میں سنجیو کمار دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ اس سانحے کے کچھ ہی عرصے بعد سُلکشنا پنڈت کی والدہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ مختصر مدت میں اپنی زندگی کے دو نہایت عزیز افراد کو کھونے کے بعد وہ شدید ذہنی صدمے میں چلی گئیں۔ انہوں نے ساری زندگی شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور فلمی دنیا سے بھی خود کو تقریباً الگ کر لیا۔
جس دن محبت بچھڑی، اسی دن زندگی کا سفر بھی ختم
سُلکشنا پنڈت کا انتقال 6 نومبر 2025 کو 71 برس کی عمر میں ممبئی کے ناناوتی اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔ حیرت انگیز اتفاق یہ رہا کہ جس تاریخ کو انہوں نے اپنی محبت، سنجیو کمار، کو کھویا تھا، اسی تاریخ کو چالیس برس بعد وہ خود بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ اگرچہ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، لیکن ان کی دلکش اداکاری، مسحور کن آواز اور یادگار فلمیں ہمیشہ مداحوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
بھارت ایکسپریس۔
ڈاکٹر شمس اقبال نے اردو صحافیوں سے زبان کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دینے…
اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے شاہد صدیقی نے بتایا کہ وہ اردو اخبارات کے…
سری لنکا کی ناقص بیٹنگ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ…
سندھ کے پانی کی تقسیم پر پاکستان کی فوج اور پنجاب کو ذمہ دار قرار…
اسٹار لنک نیٹ ورک کو تیزی سے پھیلانے کے لیے اسپیس ایکس کی مسلسل سیٹلائٹ…
باجھانگ ضلع میں 42 سالہ خاتون بملہ دیوی کا بیمار کتے کو زندہ پل سے…