Categories: Uncategorized

Supreme Court: سپریم کورٹ کی اڈیشہ عدالتوں کو سخت ہدایت، ذات پات کی بنیاد پر ضمانتی شرائط کو غیر انسانی قرار دیا

نئی دہلی: بھارت کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ نے اوڈیشہ کی بعض عدالتوں کی جانب سے ضمانت دیتے وقت مبینہ طور پر ذات پات کی بنیاد پر غیر انسانی شرائط عائد کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے اسے آئینی اصولوں کے منافی اور انتہائی قابلِ مذمت قرار دیا ہے۔یہ معاملہ میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آیا، رپورٹ کی بنیاد پر معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے، چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیا باغچی پر مشتمل بنچ نے اوڈیشہ کی عدالتوں کو اس طرح کے ظالمانہ عمل کو فوری طور پر روکنے کے لیے جامع ہدایات جاری کیں اور اسے کالعدم قرار دیا۔جن کے تحت بعض ملزمان کو پولیس اسٹیشنز کی صفائی جیسے کام کرنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اس نوعیت کی شرائط نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ یہ انسانی وقار کے بھی خلاف ہیں۔ سپریم کورٹ نے ان شرائط کو “null and void” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون کی نظر میں کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔بینچ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض عدالتی افسران کی جانب سے مخصوص آدیواسی اور نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کے خلاف تعصب پر مبنی رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ عدالت کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے عدالتی نظام کی غیر جانبداری پر سوال اٹھتے ہیں اور یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ نظام ذات پات کی بنیاد پر متاثر ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی یاد دلایا کہ ہندوستانی قانون کے تحت ہر ملزم کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک اس کا جرم ثابت نہ ہو جائے۔ عدالت نے کہا کہ محض الزام کی بنیاد پر کسی شخص کو ذلت آمیز یا غیر انسانی حالات میں ڈالنا آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔عدالت نے اس پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات عدالتی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔ بینچ نے زور دیا کہ عدلیہ کا کام انصاف فراہم کرنا ہے نہ کہ کسی بھی شہری کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا۔اس فیصلے کو قانونی ماہرین نے ایک اہم اور تاریخی قدم قرار دیا ہے، جس کا مقصد عدالتی عمل میں مساوات اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نچلی عدالتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ضمانتی شرائط آئین اور انسانی وقار کے دائرے میں رہ کر ہی طے کی جائیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

JUSTICE B.R. GAVAI ADDRESS: باوقار زندگی کے بغیر حقوق بے معنی، جسٹس بی آر گوائی کا 9ویں این سی چاگلہ لیکچر سے خطاب

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس بھوشن رام کرشن گوائی نے کہا کہ محض سیاسی…

1 hour ago

Jayant Chaudhary meets PM Modi: وزیراعظم نریندر مودی سے اہل خانہ کے ساتھ ملے جینت چودھری، اتحاد کا دیا پیغام

مرکزی وزیر اور راشٹریہ لوک دل (آر ایل ڈی) کے صدر جینت چودھری نے جمعہ…

2 hours ago

Ronaldo Ends Retirement Speculation: رونالڈو کی ریٹائرمنٹ سے متعلق قیاس آرائیاں ختم، نیشنز لیگ کے لیے پرتگال کی ٹیم میں شامل

پرتگال 24 ستمبر کو گھریلو میدان پر ویلز کے خلاف نیشنز لیگ مہم کا آغاز…

3 hours ago

Zimbabwe vs Australia: آسٹریلیا نے دوسرے ون ڈے میچ میں زمبابوے کو 84 رنز سے دی شکست، سیریز میں 0-2 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کی

ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلے گئے مقابلے میں آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 50…

3 hours ago

Chief Minister Hemant Soren: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو ای ڈی کیس میں ہائی کورٹ سے راحت نہیں، ٹرائل جاری رہے گا

جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے زمین سے متعلق منی لانڈرنگ کیس میں کارروائی روکنے کی درخواست…

4 hours ago

Nandigram by-election: نندی گرام ضمنی انتخاب، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی حمایت کے اعلان کے بعد کانگریس امیدوار ملن پردھان گرفتار

ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی جانب سے نندی گرام میں کانگریس امیدوار کی…

5 hours ago