Categories: Uncategorized

بشیربدر کو اردواکادمی، دہلی نے پیش کیا خراج عقیدت، توسیعی خطبہ و شعری نشست کا انعقاد، سرکردہ شخصیات کی شرکت

نئی دہلی: اردواکادمی، دہلی کے زیرِاہتمام معروف شاعربشیربدرکی یاد میں توسیعی خطبہ وشعری نشست کا انعقاد 29 ستمبر 2026 کواکادمی کے قمررئیس سلورجبلی آڈیٹوریم میں کیا گیا۔ پروگرام میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے محمد ہارون، ممبردہلی اقلیتی کمیشن، حکومت دہلی نے شرکت کی جبکہ معروف شاعر طالب رامپوری نے صدارت کی۔ پروفیسر احمد محفوظ نے توسیعی خطبہ پیش کیا اورپروگرام کی نظامت کے فرائض معروف شاعر ڈاکٹر شفیع ایوب نے نہایت خوش اسلوبی اور بہترین انداز میں انجام دیے۔ انھوں نے اپنی مؤثر نظامت کے ذریعے پروگرام کے تمام مراحل کو خوبصورتی سے مربوط رکھا اورابتدا سے اختتام تک نشست کو خوش گوار ادبی ماحول میں جاری رکھا۔
پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے بشیر بدر کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے چند اشعار بھی ناظرین کو پڑھ کر سنائے۔ انھوں نے کہا کہ بشیر بدر کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اردو ادب کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اردو زبان کی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اردو میں اتنی گہرائی ہے کہ اس کی تہہ میں اتر کر ہی اس کی حقیقی معنویت کو سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ محبت کی زبان ہے اور ایک ایسے سمندر کی مانند ہے جس میں جتنا غوطہ لگایا جائے، اتنا ہی انسان اردو سے سیراب ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکادمی سے وابستہ ہونے کے بعد انھیں اردو زبان و ادب کو قریب سے جاننے اور سمجھنے کا زیادہ موقع ملا۔

بشیربدر سے اردو کا ہرشخص بخوبی واقف: محمد ہارون

مہمانِ خصوصی محمد ہارون نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بشیربدراردوکا وہ معروف نام ہیں، جس سے اردو سے معمولی سی واقفیت رکھنے والا شخص بھی بخوبی واقف ہے۔ انھوں نے اردو اکادمی، دہلی کے پورے عملے کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکادمی کا عملہ اردو کی ترقی وترویج کے لیے مسلسل سرگرمِ عمل ہے۔ انھوں نے دہلی حکومت بالخصوص وزیرِاعلیٰ کی جانب سے اردو کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ دہلی اردو کی ترقی کے لیے فکر مند ہے اوراردواساتذہ کی تقرری اوراردواسکولوں سے متعلق مسائل پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بشیربدرکی یاد میں منعقدہ یہ نشست اگرچہ مختصر ہے لیکن بشیر بدر کا ہم سب پر یہ حق ہے کہ ان کی یاد میں اس سے کہیں بڑا پروگرام منعقد کیا جائے تاکہ انھیں بھرپورخراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔

پروفیسراحمد محفوظ نے پیش کیا توسیعی خطبہ

توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے پروفیسراحمد محفوظ نے عصرِحاضرکے نمایاں شاعر بشیربدرکی یاد میں اس نشست کے انعقاد پر اکادمی کو مبارکباد پیش کی اور اسے ایک اہم اور قابلِ قدر اقدام قرار دیا۔ انھوں نے جدید اور کلاسیکی شاعری کے فرق پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کلاسیکی دورمیں مشاعرے کی شاعری اورسنجیدہ شاعری کے درمیان کوئی نمایاں تفریق نہیں تھی جبکہ جدید دور میں دونوں کے الگ الگ دائرے وجود میں آ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مشاعرے کی دنیا میں بشیر بدر کا مقام نہایت نمایاں اورمقبول رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بشیر بدر کا ایک بڑا امتیاز یہ بھی ہے کہ انھوں نے مشاعرے کی دنیا سے وابستہ رہتے ہوئے غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل کی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ غزل کی شاعری میں بھی ایسا منفرد نقش چھوڑا کہ ان کی شاعری کو صرف مشاعرے کی شاعری تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔

بشیربدرکے آخری ایام کا پروفیسراحمد محفوظ نے کیا ذکر

بشیر بدر کے آخری ایام کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کی زندگی کے کئی سال علالت میں گزرے۔ اگراس دوران ان کی شعری خدمات کے اعتراف میں اس طرح کی کوئی نشست یا پروگرام منعقد کیا جاتا توزیادہ بہتر ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ بشیر بدر نے تقریباً 75 برس تک مشاعرے اورجدید شاعری کی دنیا میں ایک بے تاج بادشاہ کی حیثیت سے اپنی جگہ بنائے رکھی، اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی ادبی خدمات کو یاد کریں اورانھیں خراجِ عقیدت پیش کریں۔ فنِ شاعری پر اظہارِخیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شعرکہنا اورشعرپڑھنا دونوں الگ الگ فن ہیں اورہرشاعرکوان دونوں پر یکساں قدرت حاصل نہیں ہوتی۔ بشیربدرکو یہ ملکہ حاصل تھا کہ وہ اپنے کلام کواس اندازسے پیش کرتے تھے کہ سننے والے اس کے اثرمیں کھوجاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بشیربدرایک طرف اہم شاعرکی حیثیت رکھتے ہیں، تو دوسری طرف مشاعرے کے مقبول ترین شعرا میں بھی ان کا مقام مسلم ہے۔

بشیر بدر کے مجموعۂ کلام پراظہارِخیال کرتے ہوئے پروفیسراحمد محفوظ نے جدید غزل کے معروف شاعراورجدید رجحانات کے علمبردارمحمد علوی کے ایک نظریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد علوی نے غزل کے حوالے سے بشیربدرکو فراق گورکھپوری اور ناصر کاظمی کے بعد سب سے اہم شاعر قراردیا ہے، جس سے ان کے شعری مقام اور اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے شاعری کی مقبولیت کے حوالے سے کہا کہ کسی شعر کی ادبی قدر کا اندازہ صرف اس بنیاد پر نہیں لگایا جا سکتا کہ وہ عوام میں کتنا مقبول ہے۔ محض عوامی پسندیدگی کسی شعر کو اعلیٰ درجے کی شاعری قرار دینے کے لیے کافی نہیں۔ شاعری ایک الگ فن ہے اورکلامِ موزوں ایک الگ چیز، اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ ہر کلامِ موزوں شاعری نہیں ہو سکتا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Lalan Singh’s Response to Sonia Gandhi’s Statement: سونیا گاندھی کے بیان پر للن سنگھ کا جواب، کہا- ’نتیش کمار کو کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں‘

کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں نتیش کمار کے ’انڈیا‘ بلاک سے الگ ہونے پر…

35 minutes ago

PM Modi Cabinet Decisions:مودی کابینہ کے 3 بڑے فیصلے، کسانوں سے گرین انرجی اور دہلی ٹریفک تک بدل جائے گا نظام

وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں مرکزی کابینہ نے تین اہم منصوبوں کو منظوری…

59 minutes ago

IND vs WI: بھارتی سرزمین پر مسلسل تیسرے ون ڈے میں سنچری، ریکارڈ بک میں درج ہوا کپتان گِل کا نام

بدھ کو گوہاٹی میں جاری مقابلے میں مہمان ویسٹ انڈیز نے ٹاس ہارنے کے بعد…

1 hour ago