اوسلو: فیفا ورلڈ کپ 2026 کے کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کے ہاتھوں شکست کے باوجود ناروے کی قومی فٹ بال ٹیم کا وطن واپسی پر تاریخی استقبال کیا گیا۔ دارالحکومت اوسلو میں ایک لاکھ سے زائد شائقین سڑکوں پر نکل آئے اور اپنی ٹیم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔ رائٹرز کے مطابق ٹیم کی واپسی ایک قومی جشن میں تبدیل ہوگئی، جس نے ناروے کی تاریخی مہم کو یادگار بنا دیا۔ امریکہ سے واپس آنے والی ناروے کی ٹیم کو اوسلو پہنچنے پر روایتی واٹر کینن سلامی دی گئی۔ اس کے بعد کھلی بس میں فتحی پریڈ کا آغاز ہوا۔ ہزاروں مداح شاہی محل اور شہر کی مرکزی شاہراہ کارل یوہانس گیٹ کے اطراف جمع ہوئے، جہاں کھلاڑیوں نے پہلے شاہ ہیرالڈ سے ملاقات کی اور پھر شاہی محل کی بالکونی سے عوام کا خیرمقدم قبول کیا۔
Wow! Tusen takk, Norge ❤️ pic.twitter.com/OW2CXlcFtl
— Fotballandslaget (@nff_landslag) July 13, 2026
’وائکنگ رو‘ کی گونج، ہالینڈ تقریب سے غیر حاضر
استقبالیہ تقریب میں ناروے کی روایتی ’’وائکنگ رو‘‘ کی رسم بھی ادا کی گئی، جس میں ولی عہد ہاکون نے ڈھول بجا کر روایتی نعرے کی قیادت کی۔ تاہم ٹیم کے اسٹار اسٹرائیکر ایرلنگ ہالینڈ اس تقریب میں شریک نہ ہو سکے کیونکہ انہیں جلدی روانہ ہوکر اپنی پرواز پکڑنی تھی۔ ناروے کی قومی فٹ بال ٹیم نے اپنے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر استقبالیہ تقریب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ناروے کی مشہور کہاوت ’’بورتے برا، ییمے بیسٹ‘‘ (باہر اچھا، مگر گھر سب سے بہتر) درج کی، جس نے پوری قوم کے جذبات کی عکاسی کی۔ اس پیغام میں ورلڈ کپ میں ٹیم کی تاریخی کارکردگی پر فخر کا اظہار بھی کیا گیا۔
Borte bra, hjemme best ❤️🇳🇴 pic.twitter.com/VVhJTi6YVM
— Fotballandslaget (@nff_landslag) July 13, 2026
کوچ نے ہالینڈ کی غیر موجودگی کی وجہ بتائی
قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ اسٹالے سولباکن نے بتایا کہ ایرلنگ ہالینڈ اور مڈفیلڈر سینڈر برگے تقریب میں اس لیے شریک نہ ہو سکے کیونکہ امریکہ سے واپسی کی پرواز چار گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، جس کے باعث دونوں کھلاڑیوں کو اپنی اگلی پرواز کے لیے جلد روانہ ہونا پڑا۔ ناروے کے کپتان مارٹن اوڈیگارڈ نے شائقین کے غیر معمولی جوش و خروش پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کبھی توقع نہیں تھی کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ ٹیم کے استقبال کے لیے جمع ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکہ اور ناروے دونوں مقامات پر ملنے والی محبت اور حمایت ناقابلِ یقین تھی اور پوری ٹیم کے لیے یہ لمحہ ہمیشہ یادگار رہے گا۔
ہجوم کے باعث پریڈ میں رکاوٹیں، تاریخی مہم پر فخر
کھلی بس کی پریڈ کے دوران شائقین کی غیر معمولی تعداد کے باعث کئی مرتبہ بس کی رفتار سست ہوگئی۔ ایک موقع پر پولیس کو راستہ صاف کرنے کے لیے بس کو پیچھے بھی کرنا پڑا، جبکہ راستے میں نیچی بجلی کی تاروں کی وجہ سے بس کی چھت پر کھڑے کھلاڑیوں کو حفاظتی طور پر بیٹھنا پڑا، جس کے بعد پریڈ دوبارہ آگے بڑھی۔ تمام رکاوٹوں کے باوجود پریڈ آخرکار سٹی ہال اسکوائر پہنچی، جہاں ہزاروں مداح گھنٹوں سے اپنی ٹیم کے انتظار میں موجود تھے۔ اگرچہ ناروے سیمی فائنل تک رسائی حاصل نہ کر سکا، لیکن ورلڈ کپ 2026 میں ٹیم کی شاندار کارکردگی نے پورے ملک کو متحد کر دیا اور وطن واپسی پر ہونے والا تاریخی استقبال اسی قومی فخر کی علامت بن گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مقامی لوگوں نے کہا کہ افسران اور ملازمین مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ جب بھی…
سال 1564 میں جب آصف خان کی قیادت میں ایک بڑی مغل فوج نے گونڈوانا…
اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…
دوسری جانب ون ڈے سیریز میں بھارت کو سخت ٹکر دینے کے بعد ویسٹ انڈیز…
روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…
نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…