آئی پی ایل 2026 میں رنز کی بارش نے کرکٹ کے کئی سابق کھلاڑیوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سابق بھارتی کپتان اور عظیم بلے باز سنیل گاوسکر اس بار کافی ناراض دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ چھوٹی باؤنڈری اور بلے بازوں کے حق میں بنائے گئے قوانین نے گیند بازوں کی حالت ایک ہاتھ باندھ کر لڑنے جیسی کر دی ہے۔گاوسکر نے نہ صرف اس معاملے پر تشویش ظاہر کی بلکہ کھیل میں توازن قائم رکھنے کے لیے کئی بڑے اور انقلابی مشورے بھی دیے ہیں۔
باؤنڈری اتنی اندر کیوں؟
گاوسکر نے سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب اسٹیڈیم میں کافی جگہ موجود ہے تو باؤنڈری لائن کو اتنا اندر کیوں لایا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ کئی ایسے چھکے لگتے ہیں جنہیں اگر باؤنڈری تھوڑی پیچھے ہوتی تو فیلڈر آسانی سے کیچ میں تبدیل کر سکتے تھے۔ان کے مطابق پہلے ہی چھوٹے میدانوں کو مزید چھوٹا بنانا گیند بازوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلیٹ پچز اور چھوٹی باؤنڈری کی وجہ سے اب سنچریاں اور 250 سے زیادہ اسکور عام بات ہو گئی ہے، جس سے میچ کا اصل سنسنی خیز مقابلہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
ایک وکٹ کے بدلے ایک اضافی اوور
بلے بازوں کے اس کھیل میں گیند بازوں کو کچھ راحت دینے کے لیے گاوسکر نے ایک منفرد تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا،’’اگر ایک بلے باز پورے 20 اوور بیٹنگ کر سکتا ہے تو ایک کامیاب گیند باز کو صرف 4 اوور تک کیوں محدود رکھا جائے؟ میرا مشورہ ہے کہ جو گیند باز اپنے اسپیل میں 3 وکٹیں لے، اسے انعام کے طور پر ایک اضافی یعنی پانچواں اوور دیا جانا چاہیے۔‘‘گاوسکر کا ماننا ہے کہ اس سے ٹیمیں صرف رنز بچانے کے بجائے وکٹ لینے کی کوشش کریں گی۔ ان کے مطابق اس فارمیٹ میں توازن قائم رکھنے کے لیے گیند بازوں اور کپتانوں کو وکٹ حاصل کرنے کی ترغیب دینا ضروری ہے۔
باؤنسر اور وائیڈ کے قوانین پر بھی سوال
سنیل گاوسکر نے باؤنسر گیند کو وائیڈ قرار دینے کے سخت اصولوں پر بھی اعتراض ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سر کے اوپر سے ذرا سی اونچی گیند کو وائیڈ دینا فاسٹ بولرز کے ہاتھ باندھنے جیسا ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ امپائروں کو اس معاملے میں کچھ نرمی دکھانی چاہیے اور سر کے اوپر کم از کم ایک فٹ تک کی اونچائی کی اجازت ہونی چاہیے۔گاوسکر نے سابق بی سی سی آئی صدر سورو گنگولی سے اپیل کی کہ وہ اگلی میٹنگ میں گیند بازوں کے مفادات پر بھی غور کریں۔
پہلے ڈومیسٹک کرکٹ میں آزمائش
گاوسکر نے کہا کہ ان نئے قوانین کو پہلے مقامی لیگز یا گھریلو ٹورنامنٹس جیسے سید مشتاق علی ٹرافی میں آزمایا جانا چاہیے۔ اگر نتائج مثبت رہتے ہیں تو پھر انہیں اگلے آئی پی ایل سیزن یا 2028 کے نئے آئی پی ایل سائیکل سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…