گلاسگو: کامن ویلتھ گیمز 2026 کا اتوار کو شاندار اختتامی تقریب کے ساتھ باضابطہ اختتام ہوگیا۔ اس موقع پر کامن ویلتھ گیمز 2030 کی میزبانی بھارت کے حوالے کر دی گئی۔ گلاسگو کے او وی او ہائیڈرو اسٹیڈیم میں منعقدہ تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جہاں بھارتی ثقافت، موسیقی اور روایات کی دلکش جھلک نے حاضرین کو مسحور کر دیا۔ مشہور بھارتی گلوکار شنکر مہادیون، رشبھ شرما اور بھومی ترویدی کی پرفارمنس تقریب کی نمایاں کشش رہی۔
بھارتی ثقافت نے حاضرین کے دل جیت لیے
اختتامی تقریب کے دوران جب اسکاٹ لینڈ سے بھارت کو کامن ویلتھ گیمز کا روایتی بیٹن اور پرچم سونپا گیا تو اسٹیڈیم کا ماحول جذبات سے بھر گیا۔ وندے ماترم، شیو استوتر اور مقبول نغمہ سنو غور سے دنیا والو کی دھنوں پر ہزاروں بھارتی شائقین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو کر جھوم اٹھے، جبکہ غیر ملکی تماشائیوں نے بھی بھارتی ثقافتی پروگراموں سے بھرپور لطف اٹھایا۔
احمد آباد 2030 کے سفر کا باضابطہ آغاز
اس تقریب کے ساتھ ہی کامن ویلتھ گیمز کے یادگار گیارہ روزہ مقابلوں کا اختتام اور نئے باب کا آغاز ہوا۔ گجرات کے نائب وزیر اعلیٰ ہرش سنگھوی کو علامتی طور پر کامن ویلتھ گیمز کا پرچم سونپا گیا، جس کے ساتھ 2030 میں احمد آباد میں ہونے والے تاریخی سوویں ایڈیشن کی تیاریوں کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔ بھارتی جیولین تھرو اسٹار نیرج چوپڑا اور انڈین اولمپک ایسوسی ایشن کی صدر پی ٹی اوشا نے بھی تقریب کے دوران کامن ویلتھ گیمز کا پرچم وصول کیا۔
’وسودھیو کٹمبکم‘ کے پیغام نے باندھا سماں
بھارت کی 18 منٹ 27 سیکنڈ پر مشتمل ثقافتی پیشکش کا آغاز ایک مؤثر وائس اوور سے ہوا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ’بھارت میں کھیل صرف مقابلہ نہیں بلکہ طرز زندگی ہے۔‘ پروگرام کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ابتدائی حصہ ’وسودھیو کٹمبکم‘ (پوری دنیا ایک خاندان ہے) کے تصور اور ’وندے ماترم‘ کی ڈیڑھ سو سالہ تقریبات پر مبنی تھا، جس میں امن، اتحاد اور ہم آہنگی کا پیغام پیش کیا گیا۔ اس کے بعد ایک خصوصی فلم کے ذریعے کامن ویلتھ گیمز میں بھارت کے سفر، تاریخی کامیابیوں اور عالمی کھیلوں میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا گیا۔
موسیقی، ثقافت اور کھیلوں کا حسین امتزاج
تیسرے حصے میں بھارتی موسیقار رشبھ شرما اور اسکاٹ لینڈ کے فنکار راس اینسلے نے مشترکہ موسیقی پیش کی، جس نے گلاسگو سے احمد آباد تک کھیلوں کے سفر کی خوبصورت علامت پیش کی۔ تقریب کے اختتامی مرحلے میں شنکر مہادیون، رشبھ شرما اور بھومی ترویدی کی شاندار پرفارمنس نے پورے اسٹیڈیم کو جوش و خروش سے بھر دیا۔ رنگا رنگ کوریوگرافی، دلکش بصری مناظر اور طاقتور موسیقی نے دنیا کو احمد آباد 2030 کی ثقافتی شان کی پہلی جھلک دکھائی۔
بھارت دوسری بار میزبان بننے والا دوسرا ملک
ایتھلیٹس کی روایتی پریڈ کے دوران بھارتی باکسر جیسمین لیمبوریا نے ترنگا اٹھا کر بھارتی دستے کی قیادت کی، جبکہ کامن ویلتھ کے تمام 74 ممالک اور خطوں کے کھلاڑیوں نے دوستی، اتحاد اور کھیل کے جذبے کی علامت کے طور پر مشترکہ مارچ کیا۔ تقریب کے اختتام پر کامن ویلتھ گیمز کا پرچم باضابطہ طور پر احمد آباد کے حوالے کر دیا گیا۔ سال 2030 کا ایڈیشن تاریخی اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ یہ کامن ویلتھ گیمز کی سوویں سالگرہ کا ایڈیشن ہوگا اور بھارت آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک بن جائے گا جو ان کھیلوں کی دوسری مرتبہ میزبانی کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
منگل کی علی الصبح 4:27 بجے منی پور کے تامینگ لونگ میں بھی 2.9 شدت…
دماغ ہماری جذبات، رویوں اور جسم کی مختلف سرگرمیوں کو کس طرح کنٹرول کرتا ہے،…
طلبہ کا الزام ہے کہ بھوک ہڑتال کے دوران JNU کے وائس چانسلر نے چیف…
سکیورٹی انتظامات کے تحت جنتر منتر کے آس پاس کے حساس مقامات پر اضافی پولیس…
مہاراشٹر کے ہنگولی شہر میں پیر کی رات ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ شہر کے…
تعلیمی سیشن 27-2026 سے RBSE کی 10ویں جماعت کے طلبہ کو سال میں دو مرتبہ…