برطانوی دور میں وسائل محدود تھے اور ہندوستانی کھلاڑیوں کے لیے عالمی مقابلوں تک پہنچنا بھی آسان نہیں تھا، اس کے باوجود کئی کھلاڑیوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیت سے دنیا کو حیران کیا۔
میجر دھیان چند — ہاکی کے جادوگر
میجر دھیان چند آزادی سے پہلے ہندوستانی کھیلوں کے سب سے بڑے ستاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کو 1928 ایمسٹرڈیم، 1932 لاس اینجلس اور 1936 برلن اولمپکس میں مسلسل تین طلائی تمغے دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اولمپک ریکارڈ کے مطابق دھیان چند نے بھارت کے لیے تین طلائی تمغے جیتے اور انہیں ہاکی کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1936 کے برلن اولمپکس کے فائنل میں ہندوستان نے جرمنی کو 8-1 سے شکست دی تھی۔ اس شاندار دور میں بھارتی ہاکی نے عالمی سطح پر اپنی دھاک بٹھا دی تھی۔
روپ سنگھ — دھیان چند کے ساتھ ہاکی کا ستارہ
روپ سنگھ بھی آزادی سے پہلے کے عظیم ہندوستانی ہاکی کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ وہ 1928 اور 1932 کی اولمپک طلائی تمغہ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم کا حصہ رہے۔ اپنی جارحانہ کھیل کی صلاحیت اور گول کرنے کی مہارت کی وجہ سے انہوں نے عالمی سطح پر بھارتی ہاکی کی شناخت مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہیں دھیان چند کے عہد کے نمایاں کھلاڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
نارمن پرچارڈ — اولمپکس میں بھارت کا پہلا تمغہ
نارمن پرچارڈ نے 1900 کے پیرس اولمپکس میں بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے تاریخ رقم کی۔ وہ 200 میٹر اور 200 میٹر ہرڈلز میں چاندی کے تمغے جیتنے میں کامیاب رہے۔ ان کے یہ دونوں تمغے اولمپکس میں بھارت کے ابتدائی تاریخی تمغے تھے۔ بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے مطابق 1900 میں پرچارڈ بھارت کی جانب سے مقابلہ کرنے والے واحد کھلاڑی تھے۔پرچارڈ کی کامیابی اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ اس وقت ہندوستان برطانوی راج کے تحت تھا اور عالمی کھیلوں میں بھارت کی شناخت ابھی ابتدائی مرحلے میں تھی۔
پورما بنرجی — ابتدائی اولمپک ہندوستانی ایتھلیٹ
پورما بنرجی ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے آزادی سے پہلے عالمی کھیلوں میں بھارت کی نمائندگی کی۔ وہ 1920 کے اینٹورپ اولمپکس میں ہندوستانی دستے کا حصہ تھے۔ یہ بھارت کا پہلا باقاعدہ اولمپک دستہ تھا، جسے دوراب جی ٹاٹا کی کوششوں سے تشکیل دیا گیا تھا۔اس دور میں ہندوستانی کھلاڑیوں کے لیے اولمپک سطح تک پہنچنا بذاتِ خود ایک بڑی کامیابی تھی، کیونکہ انہیں مالی وسائل، تربیت اور ادارہ جاتی سہولتوں کی شدید کمی کا سامنا تھا۔
کے ڈی سنگھ ’بابو‘ — ہاکی کی اگلی نسل کی بنیاد
کے ڈی سنگھ ’بابو‘ بھی آزادی سے پہلے ہندوستانی ہاکی کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے تھے۔ اگرچہ ان کا سب سے شاندار اولمپک دور آزادی کے بعد آیا، لیکن انہوں نے برطانوی دور کے آخری برسوں میں ہندوستانی ہاکی کی اگلی نسل کی بنیاد مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ان عظیم کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہوں نے دھیان چند کے بعد بھارتی ہاکی کی روایت کو آگے بڑھایا۔
کھیل کے میدان سے بھی آزادی کا احساس
آزادی سے پہلے ان کھلاڑیوں کی کامیابیاں صرف تمغوں اور ریکارڈز تک محدود نہیں تھیں۔ ایسے وقت میں جب بھارت سیاسی غلامی میں تھا، عالمی کھیلوں کے میدان میں بھارتی کھلاڑیوں کی کامیابیوں نے ملک کے لوگوں میں فخر اور خود اعتمادی کا احساس پیدا کیا۔خاص طور پر دھیان چند اور ہندوستانی ہاکی ٹیم کی مسلسل اولمپک کامیابیوں نے دنیا کو دکھا دیا کہ وسائل کی کمی کے باوجود بھارتی کھلاڑی صلاحیت، محنت اور عزم میں کسی سے پیچھے نہیں تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…