شعروشاعری

Makhdoom Mohiuddin Poetry: آپ کی یاد آتی رہی رات بھر….مخدوم محی الدینؔ کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں

مخدومؔ محی الدین اردو ادب کی ان نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے شاعری کو نہ صرف جذباتِ دل کی ترجمانی بنایا بلکہ اسے عوامی جدوجہد، انقلاب اور انسانی مساوات کی آواز بھی عطا کی۔ ان کا اصل نام ابو سعید محمد مخدوم محی الدین حذری تھا اور وہ 2 فروری 1908 کو ضلع میدک (دکن) کے قصبہ سنگاریڈی میں پیدا ہوئے۔ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود ان کی طبیعت میں کشادگی، انسان دوستی اور حریت پسندی نمایاں تھی۔

آپ کی یاد آتی رہی رات بھر

چشم نم مسکراتی رہی رات بھر

مخدوم محی الدینؔ

ابتدائی تعلیم دینیات اور قرآن مجید کی تکمیل کے ساتھ ہوئی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ عثمانیہ کا انتخاب کیا جہاں سے انہوں نے 1934 میں بی اے اور 1936 میں ایم اے کیا۔ اسی دوران ان کی فکری اور سیاسی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ درس و تدریس کے شعبے میں قدم رکھتے ہوئے وہ سٹی کالج حیدرآباد کے اردو شعبہ سے وابستہ ہوئے لیکن جلد ہی سیاسی مصروفیات نے انہیں پوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا۔

مخدوم 1940 میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے سکریٹری منتخب ہوئے اور بعد ازاں ترقی پسند تحریک کے فعال رہنما کے طور پر نمایاں ہوئے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی تنظیمی سرگرمیوں میں ان کی قائدانہ بصیرت نے تحریک کو ایک مضبوط سمت عطا کی۔ سیاست کے میدان میں بھی وہ پیچھے نہ رہے اور 1956 میں آندھرا پردیش اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اپنی وفات تک وہ اس منصب پر فائز رہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل رہے۔

شاعری کے میدان میں مخدوم کی آواز محبت، انقلاب اور جدوجہد کی ہم آہنگی لیے ہوئے ہے۔ ان کی نظم ”حیات لے کے چلو“ ان کے انقلابی مزاج اور اجتماعی شعور کی بہترین ترجمان ہے۔ وہ پابند اور آزاد نظم دونوں پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ غزل، رباعی اور قطعات میں بھی ان کے فن کی جھلک نمایاں ہے، لیکن اصل شہرت انہیں انقلابی نظموں کی بدولت ملی۔ ان کی شاعری میں داخلی سوز بھی ہے اور اجتماعی تڑپ بھی۔ وہ عشق کو بھی انسانیت کی بقا اور زندگی کی جدوجہد سے ہم آہنگ کر کے پیش کرتے ہیں۔

ان کی نمایاں تصانیف میں ”سرخ سویرا“، ”گل تر“ اور ”بساط رقص“ شامل ہیں۔ ان کے کلام میں زبان کی سادگی، روانی اور اثر آفرینی اپنے عروج پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں اپنی زندگی میں بے پناہ مقبولیت ملی اور ان کی وفات کے بعد بھی ان کا کلام زندہ جاوید رہا۔

مخدوم کو ان کی علمی اور ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1969) سے نوازا گیا۔ لیکن ان کا سب سے بڑا اعزاز عوام کے دلوں میں ان کی محبت اور ان کی شاعری کا وہ انقلابی پیام ہے جو آج بھی نئی نسل کو امید اور حوصلہ بخشتا ہے۔ وہ 25 اگست 1969 کو دہلی میں انتقال کر گئے لیکن اپنے پیچھے ایسی وراثت چھوڑ گئے جو اردو ادب اور عوامی تحریکوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

India invites Pakistan for SCO forum in Delhi: آپریشن سندور کے بعد پہلی بار بھارت نے پاکستان کو ایس سی او فورم میں شرکت کی دعوت دی

پاکستان نے یکم ستمبر کو ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کی 2026-27 کی…

13 minutes ago

Cyclone ‘Arnab’: آندھرا پردیش سے ٹکرایا سمندری طوفان ’ارنَب‘، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں ہوائیں، 50 ٹرینیں اور 21 پروازیں منسوخ

سمندری طوفان کے اثر سے آندھرا پردیش کے انکاپلی، وشاکھاپٹنم، کاکیناڈا اور کونسیما اضلاع میں…

2 hours ago

IND-NW U20 Rugby Series: وزیر اعظم مودی کی قیادت میں مضبوط ہو رہا ہے ہندوستان، راجگیر میں تاریخی ہندوستان-نیوزی لینڈ رگبی سیریز کا اختتام

مرکزی وزیر مملکت برائے کھیل رکشا کھڈسے نے اس تاریخی پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے…

11 hours ago