علاقائی

Violence in Andhra Pradesh Local Body Elections: آندھرا پردیش میں بلدیاتی انتخابات کے دوران تشدد، کڑپہ اور تروپتی میں پیٹرول بموں سے ہوئے حملے

تروپتی: آندھرا پردیش میں جمعرات کے روز ضلع پریشد علاقائی حلقوں (زیڈ پی ٹی سی) اور منڈل پریشد علاقائی حلقوں (ایم پی ٹی سی) کے انتخابات کے دوران ووٹنگ کے وقت کشیدگی بڑھ گئی۔ وائی ایس آر کڑپہ اور تروپتی اضلاع کے بعض علاقوں سے پیٹرول بم حملوں اور جھڑپوں کی خبریں سامنے آئیں۔ تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی (وائی ایس آر سی پی) کے سیاسی حریفوں نے ان واقعات کے لیے ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرایا۔

پولنگ مرکز کے قریب پھینکے گئے پیٹرول بم

وائی ایس آر کڑپہ ضلع کے پُلی ویندولا اسمبلی حلقے کے ایرّام پلی گاؤں میں ایک پولنگ مرکز کے قریب پیٹرول بم پھینکے گئے، جس سے ووٹروں اور مقامی باشندوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ایرّام پلی گاؤں کو وائی ایس آر سی پی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی کا مضبوط سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پولیس نے وائی ایس آر سی پی کارکنوں کے ایک گروپ کو پولنگ مرکز میں داخل ہونے سے روک دیا۔

کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں

کچھ نامعلوم افراد نے پولنگ مرکز کے قریب پیٹرول بم پھینکے۔ اس واقعے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے اضافی پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔

تروپتی ضلع میں بھی پیٹرول بم حملے کا الزام

تروپتی ضلع کے پیناگالورو منڈل کے نلّاپوریڈی پلی گاؤں میں بھی اسی طرح کا واقعہ سامنے آیا۔ یہاں وائی ایس آر سی پی لیڈران نے الزام لگایا کہ ٹی ڈی پی کی قیادت والے این ڈی اے کے حامیوں نے ان کے پولنگ ایجنٹوں پر پیٹرول بم سے حملہ کیا۔ وائی ایس آر کڑپہ ضلع کے نندالورو میں بھی کشیدگی کی خبریں موصول ہوئیں، جہاں پولیس نے علاقے میں باہر سے لوگوں کو لانے والی گاڑیوں کو روک دیا۔

دیگر اضلاع میں بھی جھڑپ کے واقعات

پاروتی پورم منیم ضلع کے چلاکل پلی میں بھی ٹی ڈی پی اور وائی ایس آر سی پی کے حامیوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاع ملی ہے۔ جب کہ وجے نگرم ضلع میں ایک پولنگ مرکز کے قریب وائی ایس آر سی پی اور جنا سینا پارٹی کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ دونوں واقعات میں پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے حالات کو قابو میں کیا اور امن و امان بحال کرایا۔

صبح 11 بجے تک 21.12 فیصد ووٹنگ

منڈل پریشد علاقائی حلقوں (ایم پی ٹی سی) اور ضلع پریشد علاقائی حلقوں (زیڈ پی ٹی سی) کے لیے 31,460 پولنگ مراکز پر صبح 7 بجے ووٹنگ شروع ہوئی۔ تقریباً 2.61 کروڑ ووٹر اس انتخابی عمل میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔ ووٹنگ شام 5 بجے تک جاری رہی۔ ریاست بھر میں ضلع پریشد کی 582 اور منڈل پریشد کی 7,767 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Poster Outside SP Office in Lucknow: یوپی انتخابات 2027 سے پہلے سماج وادی پارٹی کے دفتر کے باہر لگا پوسٹر،’27 میں کرشن آئیں گے‘

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور پارٹی کو لے کر ان کے کارکن…

25 minutes ago

آئندہ اسمبلی انتخابات سے قبل جماعت اسلامی ہند کا ایس آئی آراورووٹرلسٹ سے متعلق تمام مسائل کومکمل طورپرحل کرنے کا مطالبہ

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند نے ایس آئی آر کی کارروائی کے بعد انتخابی فہرستوں…

37 minutes ago

Major Heist at UCO Bank: جھارکھنڈ کے گریڈیہ میں یوکو بینک میں دن دہاڑے بڑی ڈکیتی، 4 کروڑ کا سونا اور 10 لاکھ روپے نقد لوٹے

واردات کو انجام دینے کے بعد ملزمان بینک میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں…

44 minutes ago