علاقائی

RBI’s digital payments index increases to 493.22 as of March 2025: آر بی آئی کا ڈیجیٹل ادائیگی انڈیکس مارچ 2025 تک بڑھ کر 493.22 پار پہنچ گیا

ملک میں ڈیجیٹل ادائیگی کو اپنانے کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور اس کا تازہ ثبوت بھارتی ریزرو بینک (RBI) کی جانب سے جاری کردہ ڈیجیٹل پیمنٹ انڈیکس (DPI) سے ملتا ہے۔ مارچ 2025 میں یہ انڈیکس 493.22 تک پہنچ گیا ہے، جو اس سے قبل ستمبر 2024 میں 465.33 تھا۔ یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک میں نہ صرف ڈیجیٹل لین دین میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ادائیگی سے متعلق انفراسٹرکچر اور کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ آر بی آئی نے اس انڈیکس کی شروعات جنوری 2021 میں کی تھی تاکہ پورے ملک میں ڈیجیٹل ادائیگی کے معیار کو ماپا جا سکے۔ اس کا بنیاد سال مارچ 2018 مقرر کیا گیا تھا، جسے 100 کا اسکور دیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل پیمنٹ انڈیکس کیا ہے؟
ڈیجیٹل پیمنٹ انڈیکس (DPI) ایک جامع انڈیکس ہے جو بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگی کی رسائی، قبولیت اور استعمال کی پیمائش کرتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر تین زمروں کی بنیاد پر جائزہ لیا جاتا ہے:

سپلائی سائیڈ پر پیمنٹ انفراسٹرکچر (جیسے POS مشینیں، QR کوڈ وغیرہ)

ڈیمانڈ سائیڈ پر پیمنٹ انفراسٹرکچر (جیسے بینک کھاتہ داروں کی تعداد، ایکٹیو ڈیجیٹل صارفین)

پیمنٹ کی کارکردگی (لین دین کی تعداد، مالیت اور ان کی تنوع)

مارچ 2025 تک کے انڈیکس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملک بھر میں ڈیجیٹل لین دین سے متعلق بنیادی ڈھانچے میں کافی بہتری آئی ہے اور اس کے استعمال میں بھی تیزی آئی ہے۔

یہ اعداد و شمار کیا ظاہر کرتے ہیں؟
یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگی کا دائرہ مسلسل پھیل رہا ہے۔ صرف گزشتہ چھ مہینوں میں انڈیکس میں 27.89 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

اس اضافے کی اہم وجوہات کیا ہیں؟
آر بی آئی کی پریس ریلیز کے مطابق، مارچ 2025 میں DPI میں ہونے والے اس نمایاں اضافے کی دو بڑی وجوہات رہی ہیں:

  1. ادائیگی کے انفراسٹرکچر میں توسیع (سپلائی سائیڈ)
    ملک کے کونے کونے میں QR کوڈ، UPI اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع کی دستیابی میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔
  2. لین دین کی تعداد اور مالیت میں اضافہ (پیمنٹ کارکردگی)
    UPI، IMPS، اور انٹرنیٹ بینکنگ جیسے ذرائع سے ہونے والے ٹرانزیکشن کی مقدار اور تنوع میں قابل قدر اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

ڈیجیٹل ادائیگی کی سمت میں بھارت کی مضبوط پیش قدمی
بھارت میں UPI اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع نے ادائیگی کے طریقے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اب موبائل فون کے ذریعے لین دین کرنا عام بات ہو چکی ہے، اور یہ رجحان حکومتی پالیسیوں، بینکوں کی کوششوں اور تکنیکی جدتوں کے باعث مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

آر بی آئی-ڈی پی آئی کے مسلسل بڑھتے ہوئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک اب کیش لیس معیشت کی جانب اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس سے مالی شمولیت کو بھی تقویت ملی ہے، کیونکہ اب چھوٹے دکانداروں سے لے کر بڑے کاروبار تک ڈیجیٹل ادائیگی کو اپنا چکے ہیں۔

Abu Danish Rehman

Recent Posts

نیشنل کانفرنس میں زبردست اختلاف! 18 اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو لکھا خط، کابینہ میں تبدیلی سمیت کیا یہ بڑا مطالبہ

یادداشت پر دستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان بڑھتی…

35 minutes ago

India vs new Zealand: ایڈن پارک میں نیوزی لینڈ کا ریکارڈ بھارت کے لیے تشویش کا باعث، 11 میچوں میں صرف 4 فتوحات

بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ون ڈے 4 نومبر کو آکلینڈ کے ایڈن…

55 minutes ago

دہلی-این سی آر میں گرین پٹاخے جلانے کی اجازت، سپریم کورٹ نے دیوالی پر دو دن کی چھوٹ دی

جسٹس ایم ایم سندریش اورجسٹس پرسنّا بی ورالے کی بنچ نے 29 اکتوبر کے اپنے…

1 hour ago