مہا کمبھ کی وجہ سے پریاگ راج میں 15 فروری تک آٹھویں جماعت تک کے اسکول بند، آن لائن موڈ میں ہوگی پڑھائی
مہا کمبھ کے دوران سنگم میں پاویتر اسنان کرنے والے عقیدت مندوں کی تعداد جمعہ کو 40 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔ یہ اطلاع اتر پردیش حکومت نے سرکاری اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے دی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 7 فروری کو 48 لاکھ عقیدت مندوں نے گنگا، جمنا اور قدیم سرسوتی ندیوں کے سنگم پر ڈبکیاں لگائی ۔
قابل ذکر ہے کہ مکر سنکرانتی، مونی اماواسیہ اور بسنت پنچمی پر تین پاویتر امرت اسنان تہواروں کے اختتام کے باوجود، ہندوستان اور دنیا بھر سے یاتری مقدس ڈبکی لینے کے لیے بڑی تعداد میں مہا کمبھ کا دورہ کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے کہا کہ امرت اسنان کے لیے سب سے زیادہ بھیڑ مونی اماوسیہ کے موقع پر دیکھی گئی ،جب آٹھ کروڑ عقیدت مندوں نے گنگا میں ڈبکی لگائی۔
مکر سنکرانتی کے موقع پر 3.5 کروڑ عقیدت مندوں نے امرت اسنان کے دوران ڈبکی لگائی، جب کہ 2.57 کروڑ عقیدت مندوں نے بسنت پنچمی اسنان کے دوران ڈبکی لگائی۔ اس کے علاوہ 30 جنوری اور یکم فروری کو دو کروڑ سے زیادہ عقیدت مندوں نے اسنان کیا اور پوش پورنیما پر 1.7 کروڑ سے زیادہ عقیدت مندوں نےاسنان کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ، راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سدھا مورتی اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت کئی سیاسی لیڈروں نے بھی مہا کمبھ میں اسنان کیا ہے۔ اداکارہ ہیما مالنی اور انوپم کھیر، اولمپک میڈلسٹ سائنا نہوال اور کوریوگرافر ریمو ڈی سوزا سمیت دیگر مشہور شخصیات نے بھی اسنان میں حصہ لیا۔
معلوم ہوا ہے کہ صدر دروپدی مرمو سنگم کی پاویتر رسم میں شرکت کے لیے اگلے پیر کو پریاگ راج آئیں گی۔ مہا کمبھ، جو 13 جنوری 2025 کو شروع ہوا تھا، 26 فروری 2025 کو یعنی مہاشیو راتری کے دن اختتام پذیر ہوگا۔
بھارت ایکسپریس
اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE)…
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایمبولینس ڈرائیور کو…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے عظیم انقلابی اور مجاہد آزادی شیام جی کرشن ورما…
نیتا امبانی نے کہا ’’ایشین گیمز 2026 میں ہمارے ہندوستانی دستے کو دلی مبارکباد، جس…
ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے کہا، مالی سال 2026-27 کے اختتام تک 114…
اساتذہ کی شدید کمی، بدحال اسکولوں اور تعلیمی سہولیات کے فقدان کے خلاف شروع ہونے…