صحافی رانا ایوب کو دہلی کی عدالت سے جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے دہلی پولیس کو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ صحافی رانا ایوب پر 2016-2017 میں مبینہ طور پر کچھ توہین آمیز پوسٹس کرنے کا الزام ہے ۔ جس میں ‘ہندو دیوتاؤں کی توہین کرنا، بھارت مخالف جذبات پھیلانا اور مذہبی منافرت کو بھڑکانا’ شامل ہے۔ عدالت نے کہا کہ دائر درخواست میں قابلِ سماعت جرائم کے ہونے کا خلاصہ ہوا ہے اور سٹی پولیس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی “غیر جانبدارانہ” تحقیقات کرے۔
چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ہمانشو رمن سنگھ ایک وکیل کی جانب سے دائر درخواست پر سنوائی کر رہے تھے، جس میں عدالت سے رانا ایوب کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواشت کی گئی تھی۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ رانا ایوب نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر توہین آمیز پوسٹس کی ہیں۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ اس پوسٹ میں ‘ہندو دیوتاؤں کی توہین، بھارت مخالف جذبات پھیلانے اور مذہبی منافرت کو بھڑکانا’ شامل ہے۔
25 جنوری کے اپنے حکم میں عدالت نے کہا، “مقدمہ کے حقائق پہلی نظر سے ظاہر کرتے ہیں کہ دفعہ 153A (مذہب، ذات، جائے پیدائش، رہائش، زبان وغیرہ کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کی سزا)۔ 295A (جان بوجھ کر اور بدنیتی پر مبنی کارروائیاں جن کا مقصد کسی بھی طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرکے اس کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا) اور 505 (عوامی فساد کا باعث بننے والے بیانات) قابل سزا جرم ہیں۔’ عدالت نے کہا کہ الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے تحقیقات کا حکم دینا مناسب ہے۔
عدالت نے کہا، ‘شکایت کنندہ کی جانب سے پیش کیے گئے حقائق ایسے ہیں ،جن کے لیے پولیس تفتیش کی صورت میں ریاستی مشینری کی مداخلت کی ضرورت ہے اور شکایت کنندہ (وکیل) ثبوت جمع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔’ عدالت نے جنوبی دہلی کے سائبر پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کو ہدایت دی کہ وہ شکایت کے مواد کو ایف آئی آر میں بدلنے اور “معاملے کی منصفانہ تحقیقات” کریں۔ اس معاملے کو تعمیل رپورٹ موصول ہونے کے لیے منگل کو پوسٹ کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپرس۔
مرکزی وزیر مملکت کا الزام، بار بار مارچ اور ریلیوں سے عام لوگوں کو مشکلات…
سپریم کورٹ نے 2018 میں احتجاج پر مکمل پابندی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے محدود…
ممبئی کے دھاراوی ری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ نے ایک اہم مرحلہ طے کرلیا ہے۔ ماٹونگا میں…
11 اور 12 اکتوبر کو منعقدہ میلے میں گاؤں والوں نے جوش و خروش سے…
تلنگانہ کے کاماریڈی ضلع میں چوروں نے خواتین کی نائٹی اور چہرے پر ماسک پہن…
تقریباً 7.97 لاکھ نئے ووٹر شامل، حتمی فہرست میں 2.01 کروڑ سے زیادہ ووٹر درج،…