علاقائی

Food and Drug Administration (FDA): ہندوستانی فارما کمپنیاں امریکی کینسر جینرک مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہی ہیں

ایک نئی رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی فارماسیوٹیکل کمپنیاں منافع بخش امریکی آنکولوجی  جینرک مارکیٹ   کس مارکیٹ میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے کوششیں تیز کر رہی ہیں، جس کی مالیت فی الحال 145 بلین ڈالر ہے اور سالانہ 11 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں کئی ہندوستانی دوا سازوں نے کینسر کی دوائیوں کے جینرک ورژن کے لیے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) سے منظوری حاصل کی ہے، جس کی وجہ سے امریکی مارکیٹ میں پیچیدہ جینرک اور بائیو سیمیلرز کے داخلے میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آنکولوجی عالمی سطح پر سب سے تیزی سے ترقی کرنے والے تھراپی طبقوں میں سے ایک کے طور پر ابھر رہی ہے، ہندوستانی کمپنیاں سستی مینوفیکچرنگ، تکنیکی مہارت، اورریگولیٹری منظوریوں میں اپنی خد مختاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس اعلیٰ قدر کےشعبے میں داخل ہونے کے لیے خود کو پوزیشن میں لے رہی ہیں۔

صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ روایتی جینرک سے زیادہ پیچیدہ فارمولیشنز کی طرف تبدیلی کا اشارہ دیتا ہے – جو ہندوستانی فارما کمپنیوں کی ابھرتی ہوئی صلاحیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بڑھتا ہوا عالمی دباؤ ملکی شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے مضبوط رجحانات کے ساتھ موافق ہے۔

محکمہ فارماسیوٹیکل کے مطابق  ہندوستان کے فارماسیوٹیکل اور طبی آلات کے شعبے کو اپریل اور دسمبر 2024 کے درمیان 11,888 کروڑ روپے کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) موصول ہوئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ  مالی سال 2025کے دوران براؤن فیلڈ پروجیکٹس کے لیے 7,246.40 کروڑ روپے کی 13 ایف ڈی آئی تجاویز کو منظوری دی گئی، جس سے کل ایف ڈی آئی 19,134.4 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

اس رفتار کا زیادہ تر حصہ مرکزی حکومت کی پیداوار سے منسلک ترغیب پی ایل آئی اسکیم سے چلتا ہے، جس کا مقصد گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا، درآمدات پرانحصارکو کم کرنا اوربرآمدات کو بڑھانا ہے۔ 2021 میں فارماسیوٹیکلز کے لیے 15,000 کروڑ روپے کے مالیاتی اخراجات کے ساتھ شروع کی گئی، یہ اسکیم اعلیٰ قیمت والی مصنوعات جیسے پیچیدہ جینرک ، بائیو فارماسیوٹیکل، اور کینسر کے خلاف ادویات پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔

اس منصوبے کے قابل ذکر نتائج میں سے ایک ابتدائی سرمایہ کاری کے ہدف کو عبور کرنا ہے۔ جب کہ اصل کمٹمنٹ 3,938.57 کروڑ روپے تھی، اصل سرمایہ کاری 2024 کے آخر تک 4,253.92 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ آندھرا پردیش میں پینسلین جی یونٹ اور ہماچل پردیش میں کلاوولینک ایسڈ کی سہولت جیسے پروجیکٹ بڑے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں، جن سے درآمدی لاگت میں نمایاں کمی کی توقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Prime Minister Modi extended his best wishes: کرناٹک اور کیرالہ کے یوم تاسیس پر وزیراعظم مودی، وزیرداخلہ امت شاہ سمیت کئی مرکزی رہنماؤں کی مبارک باد

وزیراعظم مودی نے کرناٹک اور کیرالہ ریاستوں کی ثقافتی وراثت اور ترقیاتی کامیابیوں کو سراہا۔…

1 hour ago

Germany’s Gen Z Protests: فرانس کے بعد جرمنی میں بھی جن زی مظاہرین کا تشدد، دکانوں میں لوٹ مار اور آگ زنی

سربیا میں طلبہ ایک طویل عرصے سے اقتدار میں موجود لیڈروں کو ہٹانے کی کوششوں…

1 hour ago

Ujjain Hotel Incident: مدھیہ پردیش کے اجین میں بڑا حادثہ، ہوٹل کے چیمبر میں دم گھٹنے سے 4 افراد کی موت

چیمبر میں گیس کا اخراج ہونے کے باعث تمام افراد بے ہوش ہوگئے۔ واقعے کی…

2 hours ago