علاقائی

India set to launch first hydrogen-powered train, A giant leap toward green mobility: بھارت کا پہلا ہائیڈروجن سے چلنے  والی ٹرین لانچ کرنے کا منصوبہ، گرین  موبیلیٹی کی جانب ایک بڑی پیشرفت

ایک تاریخی اقدام کے تحت بھارتی ریلوے جلد ہی ملک کی پہلی ہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرین لانچ کرنے جا رہا ہے، جس کے بعد بھارت جرمنی، فرانس، سویڈن اور چین جیسے ممالک کی صف میں شامل ہو جائے گا جو ہائیڈروجن ٹرین ٹیکنالوجی میں پیش پیش ہیں۔یہ منصوبہ ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے متعارف کرایا، جنہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں چنئی کے انٹیگرل کوچ فیکٹری (ICF) میں آزمائش کے مرحلے میں موجود ہائیڈروجن ٹرین کی پہلی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔

وزارت ریلوے نے سال 2023-2024 میں 2,800 کروڑ روپے مختص کیے تاکہ 35 ہائیڈروجن فیول سیل پر مبنی ٹرینیں تیار کی جا سکیں، جو صاف توانائی سے چلنے والی نقل و حمل کو فروغ دیں گی۔ ویشنو کے مطابق ان ٹرینوں کی تکنیکی تفصیلات ریسرچ ڈیزائن اینڈ اسٹینڈرڈز آرگنائزیشن (RDSO) نے تیار کی ہیں، جس سے یہ منصوبہ مکمل طور پر “میڈ ان انڈیا” ہے۔

 پہلا روٹ: جند سے سونی پت، ہریانہ

اس ٹرین کی پہلی سفر جند سے سونی پت (ہریانہ) کے درمیان ہوگی۔ اس روٹ کا انتخاب اس کی مختصر مسافت اور بنیادی ڈھانچے کی تیاری کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ یہ بھارت کا پہلا زیرو-ایمیشن (صفر اخراج) والا روٹ ہوگا، جو مستقبل میں دوسرے غیر الیکٹریفائیڈ اور تاریخی روٹس کے لیے ایک ماڈل بنے گا۔

دنیا کی سب سے طاقتور ہائیڈروجن ٹرین

بھارتی ریلوے کے مطابق  یہ ٹرین دنیا کی سب سے طاقتور اور طویل فاصلے تک جانے والی ہائیڈروجن ٹرین ہوگی، جو 1,200 ہارس پاور کے انجن سے لیس ہوگی اور 2,600 مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ ٹرین اصل میں ایک ڈیزل الیکٹرک ملٹیپل یونٹ (DEMU) تھی جسے ہائیڈروجن فیول سیلز سے لیس کر کے جدید اور ماحول دوست بنایا گیا ہے۔ یہ دیسی مہارت اور جدید ٹیکنالوجی کا حسین امتزاج ہے۔

حکومت کا گرین وژن

یہ لانچ “ہائیڈروجن فار ہیریٹیج” نامی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد قدرتی و تاریخی علاقوں جیسے شملہ-کلکا، دارجلنگ، اور اوٹی جیسے روٹس پر ریل سفر کو ماحول دوست بنانا ہے۔

اس منصوبے کے تحت:

  • 35 ہائیڈروجن ٹرینیں تیار کی جائیں گی
  • 80 کروڑ روپے فی ٹرین لاگت آئے گی
  • 70 کروڑ روپے فی روٹ ہائیڈروجن ری فیولنگ اور دیکھ بھال کے لیے مختص کیے گئے ہیںہائیڈروجن سے چلنے والی ٹرینیں صرف پانی کے بخارات خارج کرتی ہیں، جو کہ ماحول کے لیے نہایت فائدہ مند ہے، خاص طور پر ان علاقوں کے لیے جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچی۔

مستقبل کا روڈ میپ

جند-سونی پت کے بعد یہ سروس سیاحتی اور تاریخی روٹس تک پھیلائی جائے گی، جس کا مقصد سفر کے تجربے کو بہتر بنانا اور بھارت کو 2070 تک نیٹ زیرو کاربن اخراج والے ممالک میں شامل کرنا ہے۔یہ جرات مندانہ اقدام بھارت کے ماحولیاتی عزم کی علامت ہے اور بھارتی ریلوے کو عالمی سطح پر صاف اور جدید ریلوے ٹیکنالوجی میں ایک اہم مقام پر لے آتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

4 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

4 hours ago