31 اکتوبر کو 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی 41ویں برسی پر مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے جان گنوانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم آزاد بھارت کی تاریخ کے سب سے سیاہ ابواب میں سے ایک کی برسی منا رہے ہیں۔ ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ آج بھی جب میں 1984 کے وہ دن یاد کرتا ہوں تو بدن میں کپکپی دوڑ جاتی ہے، جب بے سہارا اور معصوم سکھ مردوں، عورتوں اور بچوں کا بے دردی سے قتل عام کیا گیا۔ ان کی جائیدادوں اور مذہبی مقامات کو کانگریس کے لیڈروں اور ان کے ساتھیوں کی قیادت میں لُوٹا گیا۔ یہ سب اندرا گاندھی کے بہیمانہ قتل کا ’بدلہ‘ لینے کے نام پر کیا گیا تھا۔
جب پولیس تماشائی بن کر کھڑی تھی
مرکزی وزیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھا، ’’یہ وہ وقت تھا جب پولیس تماشائی بن کر کھڑی تھی، جب کہ سکھوں کو ان کے گھروں، گاڑیوں اور گردواروں سے گھسیٹ کر باہر نکالا جا رہا تھا اور زندہ جلایا جا رہا تھا۔ ریاستی مشینری پوری طرح ناکام ہو چکی تھی، محافظ ہی مجرم بن گئے تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سکھوں کے گھروں اور جائیدادوں کی شناخت کے لیے ووٹر لسٹوں کا استعمال کیا گیا۔ کئی دنوں تک ہجوم کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس، وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اپنے بیان ’جب کوئی بڑا درخت گرتا ہے تو زمین ہلتی ہے‘ کے ذریعے سکھوں کے قتلِ عام کا اعلانیہ دفاع کیا۔ کانگریس کے لیڈر گردواروں کے باہر بھیڑ کی قیادت کرتے نظر آئے جبکہ پولیس تماشائی بنی رہی۔ قانون و نظم قائم رکھنے کے لیے بنے اداروں نے اپنے ضمیر کی آواز کو دبا کر ان لیڈروں کو کھلی چھوٹ دے دی۔ ہردیپ سنگھ پوری نے الزام لگایا کہ ایک کانگریسی ایم ایل اے کے گھر پر میٹنگ ہوئی جہاں فیصلہ کیا گیا کہ سکھوں کو ’سبق سکھانا‘ ہوگا۔ کارخانوں سے آتش گیر پاؤڈر اور کیمیکل منگوائے گئے اور انہیں ہجوم میں تقسیم کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ذرائع کے مطابق، اب جنرل سکریٹری اور انچارج کے ساتھ مقرر کیے گئے سکریٹریوں کو…
سیا نے کہا کہ انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں پورا واقعہ بتایا…
سارہ تندولکر نے منگل کی صبح انسٹاگرام پر تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ ان میں…
کے ٹی ایل اے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، ملبے سے کم از کم ایک…
مولانا ارشد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہم ایسا کوئی قانون قبول نہیں…
حکومت نے واضح کیا ہے کہ تاجر ایم ڈی آر فیس کا بوجھ صارفین پر…