کانگریس کی ترجمان ڈاکٹر شمع محمد
دہلی ہائی کورٹ نے ایک نیوز چینل کو حکم دیا کہ وہ ایک ٹی وی مباحثے کی یوٹیوب ویڈیو کو ہٹا دے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان سنجو ورما نے کانگریس کی ترجمان ڈاکٹر شمع محمد کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے پر تنقید کی تھی۔ جسٹس وکاس مہاجن نے سوشل سائٹ ایکس کو کانگریس کے ترجمان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے ایک درجن سے زیادہ ٹویٹس کو ہٹانے کا بھی حکم دیا ہے۔
بی جے پی کے ترجمان نے کیا کہا؟
سنجو ورما نے مبینہ طور پر شمع محمد کے خلاف ‘احمق عورت’ جیسے الفاظ استعمال کیے تھے اور کہا تھا کہ ‘شمع محمد بہت بے شرم ہے’، ‘ تم ڈاکٹر بھی نہیں ہو’، اور ‘تم مدرسے سے ہو’۔ جسٹس مہاجن نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ تبصرے ہتک آمیز معلوم ہوتے ہیں اور شمع محمد کی شبیہ کو نقصان پہنچانے کے مترداف ہے ، حالانکہ وہ کانگریس کی قومی ترجمان اور پیشے سے دانتوں کی ڈاکٹر ہیں۔
نیوز چینل پر یہ بحث مغربی بنگال کے آر جی کار اسپتال میں قتل اور عصمت دری کے حوالے سے تھی۔
جسٹس مہاجن نے کہا کہ اس طرح کے تبصروں کو صرف پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ تبصرے بغیر کسی جواز کے لاپرواہی سے کیے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ عوامی مباحثے میں پینلسٹس سے متوقع بنیادی آداب اور طرز عمل کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہر ایک کے وقار کا ایک لازمی اور اہم پہلو ہے۔ پینلسٹس کو اپنے آزادی اظہار کے حق کے حوالے سے احتیاط برتنی چاہیے۔ اسے دوسروں کے حقوق پامال کرنے اور ان کے عوامی مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ خاص طور پر ان سیاسی لیڈروں کی جو اپنی ساری زندگی عوام میں اپنا امیج بنانے میں صرف کرتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر پابندی لگائی گئی تو…
اس سے قبل وائلڈ کارڈ انٹری کرنے والے نکول دُل کو بھی بگ باس کے…
لال کرشن اڈوانی ملک کے سینئر سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا سیاسی…
یہ دردناک واقعہ گریٹر نوئیڈا کے ربوپورہ تھانہ علاقے کے تحت آنے والے گاؤں نگلا…
مہا سپتمی کے موقع پر عقیدت مند نو پودوں کے مجموعے، نوپتریکا، کو نصب کرتے…
مذہبی تقریبات کے علاوہ ویشالی کالی باڑی میں ہر روز شام 7:30 بجے شام کی…