مدھیہ پردیش کے چھندواڑہ میں کف سیرپ سے 23 بچوں کی موت کے بعد اب مرکزی حکومت بڑے ایکشن کی تیاری میں ہے۔ پورے ملک میں دواؤں کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت بنانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، مرکز جلد ہی ایک نیا قانون لانے جا رہا ہے، جس سے دواؤں کے معیار کی جانچ اور مارکیٹ کی نگرانی کو قانونی طاقت حاصل ہوگی۔ جعلی اور ناقص دواؤں کے خلاف مرکزی ایجنسی کو پہلی بار قانونی اختیار دیا جائے گا۔
ڈرگ کنٹرولر نے قانون کا مسودہ پیش کیا
منگل کو وزارت صحت میں اس معاملے پر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی، جس کی صدارت مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے کی۔ اس دوران بھارت کے ڈرگ کنٹرولر ڈاکٹر راجیو سنگھ رگھوونشی نے ‘دوائیں، طبی آلات اور کاسمیٹکس ایکٹ 2025’ کا مسودہ پیش کیا۔ اس کے ذریعے پرانے 1940 کے قانون کو منسوخ کرکے نیا ایکٹ نافذ کیا جائے گا۔ اس نئے قانون کے تحت دوا کی تیاری سے لے کر مارکیٹ میں فروخت ہونے تک ہر سطح پر جوابدہی اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔ قانون نافذ ہونے کے بعد ملک میں دواؤں کی نگرانی کا نظام زیادہ جدید، سخت اور ذمہ دار بن جائے گا۔
کف سیرپ اسکینڈل کے بعد فیصلہ
وزارت صحت کی یہ اہم میٹنگ مدھیہ پردیش میں ناقص کف سیرپ کے سبب کئی بچوں کی موت کے چند دن بعد بلائی گئی۔ مدھیہ پردیش سے پہلے ہریانہ، جموں و کشمیر اور تمل ناڈومیں بھی ناقص کف سیرپ سے بچوں کی اموات کے معاملے سامنے آ چکے ہیں۔ جانچ میں انکشاف ہو کہ ان سیرپوں میں ڈائی تھیلین گلائکول (Diethylene Glycol) جیسے زہریلے کیمیکل کی ملاوٹ کی گئی تھی، جو بچوں کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…