ذات پات پر مبنی تعصب اور تنازعے سے بچنے کے لیے مہاراشٹر کے بیڑ ضلع میں انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اہم ہدایت جاری کی ہے۔ ضلع میں پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی وردیوں پر اپنا پورا نام نہ لکھیں۔ مہاراشٹر میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا قدم ہے۔ اس سلسلے میں افسران کو صرف ان کے پہلے نام کی پلیٹ تقسیم کی جا رہی ہے۔
جنوری میں اپنا عہدہ سنبھالنے والے بیڑ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نونیت کنوت نے ضلع کے ماساجوگ گاؤں کے سرپنچ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی سنتوش دیشمکھ کے قتل پر ہونے والے احتجاج کے بعد یہ حکم جاری کیا ہے۔ جمعہ کو اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر سچن نے کہا کہ ’’بیڑ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے ضلع کے تمام پولیس اہلکاروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اپنے پہلے ناموں سے ہی مخاطب کریں اور اپنی وردیوں پر بھی صرف پہلا نام ہی رکھیں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ پولیس افسران کو صرف پہلے نام کی تختیاں بھی دی گئی ہیں۔
عوام کا رد عمل
مراٹھا کرانتی مورچہ کے ایک اہم رکن ونود پاٹل نے پولیس کی اس پہل کا استقبال کرتے ہوئے محکمے کی تعریف کی اور کہا کہ محکمہ پولیس واحد محکمہ ہے جہاں کوئی گروپ بندی یا یونین نہیں ہے۔ پسماندہ طبقات کے ایک اور لیڈر ہری بھاؤ راتھوڑ نے کہا کہ اس ہدایت کا خیرمقدم ہے، لیکن پولیس افسران کی ذہنیت کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔
کیا ہے معاملہ
واضح رہے کہ ماساجوگ گاؤں کے سرپنچ سنتوش دیش مکھ کو 9 دسمبر کو مبینہ طور پر ضلع کی ایک ونڈ مل کمپنی سے 2 کروڑ روپے کی رشوت لینے کی کچھ لوگوں کی کوشش کی مخالفت کرنے پر اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ دیش مکھ ایک مراٹھا تھا، جب کہ اس کے قاتلین کی اکثرت انجاری برادری سے تھی، جو ایک پسماندہ برادری ہے۔ اس قتل سے دونوں برادریوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو
گورنر سنتوش گنگوار نے کہا کہ تیر اندازی یکسوئی اور درست نشانے کا کھیل ہے۔…
پٹنہ کے باپو آڈیٹوریم میں 26 اکتوبر کو IVY بھوجپوری میوزک ایوارڈز 2026 کا انعقاد…
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی نظام آج کے چیلنجز کا حل پیش…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طویل عمر اور صحت مند زندگی کے لیے نیک…
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا کی عرضی پر دہلی ہائی…
پولیس نے حضرت گنج تھانے میں شردھا دوبے سے تقریباً 6 گھنٹے تک پوچھ گچھ…