علاقائی

Azam khan says Z security is not enough for me: جان کے خطرے پر اعظم خان نے کہا  – میرا دشمن زیادہ سے زیادہ میری جان لے سکتا ہے،  میرے لیے زیڈ سکیورٹی بھی ناکافی

اپنی صاف گوئی کے لیے مشہور سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کا انداز جیل سے باہر آنے کے بعد بھی نہیں بدلا ہے۔ انہوں نے اپنی سکیورٹی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرا دشمن میری جان لے سکتا ہے، اس سے زیادہ کیا لے گا۔ آئی اے این ایس سے بات چیت کے دوران سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان نے کہا کہ ہمارے دشمن بھی نادان ہیں، ہم سے دشمنی کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے۔ ہم نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ میں آپ کے ذریعے کہہ رہا ہوں، اگر میری قلم سے کسی کو نقصان پہنچا ہو تو بتائیں۔ میں نے کبھی ذات یا مذہب کی بنیاد پر کسی کا کام نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو رامپور میں مجھے اتنی محبت نہ ملتی۔ انہوں نے اپنی سکیورٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے زیڈ سکیورٹی ملی تھی۔ اُس وقت کے ایس پی نے لکھا تھا کہ میرے لیے زیڈ سکیورٹی بھی کم ہے، مجھے زیڈ پلس دی جائے، جو نہیں دی گئی۔ اب تو زیڈ سکیورٹی دینا دور کی بات ہے، کوئی سکیورٹی ہی نہیں ہے۔ میرے جیسے شخص کے لیے وائی کیٹیگری سکیورٹی کافی نہیں ہے۔

اگر میرا خدا نہ چاہے تو کوئی میری جان کوئی  نہیں لے سکتا

اعظم خان نے اپنے تحفظ کے حوالے سے کہا کہ کئی لوگ بلاوجہ میرے مخالف ہیں، وہ کسی بھی بہانے سے میرے اوپر فائرنگ کرا سکتے ہیں۔ کم از کم اتنی سکیورٹی تو ہونی چاہیے کہ میں خود کو محفوظ محسوس کر سکوں۔ میری زندگی ہمیشہ خطرے میں رہی ہے۔ میرا دشمن میری جان لے سکتا ہے، اس سے زیادہ کیا لے گا؟ پیسہ تو ہے نہیں۔ ویسے بھی جس دن موت لکھی ہوگی، وہ آ کر رہے گی۔ لیکن اگر میرا خدا نہ چاہے تو کوئی میری جان نہیں لے سکتا۔سماج وادی رہنما نے کہا کہ کورونا کے دور کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ میں پانچ ماہ تک کورونا میں مبتلا رہا، تب بھی نہیں مرا۔ کئی بار مجھ پر حملے ہوئے، گولیاں چلائی گئیں، تب بھی نہیں مرا۔ ’جاکو رکھے سائیں مار سکے نہ کوئی‘۔

میں نے سب کو معاف کر دیا ہے

اعظم خان نے کہا کہ میں آج بھی زندہ ہوں اور میں نے سب کو معاف کر دیا ہے۔ میری صحت دیکھ کر لوگ کہتے ہیں کہ میں نے جیل میں آرام کی زندگی گزاری، جیل میں بکرے کا گوشت کھایا۔ میں نے بکرے کا گوشت نہیں کھایا تھا، مگر ان لوگوں کے جسموں پر گوشت نہیں چھوڑا تھا جنہوں نے غریبوں کا گوشت کھایا تھا۔ اعظم خان نے کہا کہ نفرت بہت دور تک جا چکی ہے اور آگ سے آگ کبھی نہیں بجھتی۔ نفرت کو ختم کرنے کے لیے محبت کی ضرورت ہے، انسانیت کی ضرورت ہے۔ کم از کم ہمیں ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرنی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Two Helicopters Collide During Landing in Nepal: نیپال میں لینڈنگ کے دوران دو ہیلی کاپٹر آپس میں ٹکرا گئے، ایک شخص کی موت

 نیپال میں بلند پہاڑی علاقوں اور ماؤنٹ ایورسٹ کے اطراف سیاحوں اور کوہ پیماؤں کو…

15 minutes ago

Union Home Minister Amit Shah: چھتیس گڑھ راجیہ اتسو کی اختتامی تقریب میں شرکت کریں گے امت شاہ، تین اہم پروگراموں میں لیں گے حصہ

راجیہ اتسو کی اختتامی تقریب کے دوران ریاست کی خواتین کے لیے چلائی جانے والی…

54 minutes ago

Test of Leadership: اقتدار، سوال اور قیادت کی آزمائش

بھارتی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ ہر شہری کو سوال پوچھنے…

2 hours ago