بنگلورو: بھارت نے اتوار کو آسٹرواسٹ (AstroSat) کی دسویں سالگرہ منائی، جو ملک کا پہلا مخصوص خلائی مشاہدہ گاہ (Space Observatory) مشن ہے، جو زمین کے گرد مدار میں گردش کر رہا ہے اور کائنات کا مشاہدہ مختلف طولِ موج (wavelengths) پر کر رہا ہے۔
28 ستمبر 2015 کو پی ایس ایل وی-سی30 (PSLV-C30) کے ذریعے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے لانچ کیا گیا، آسٹرواسٹ اپنی پانچ سالہ متوقع مدت سے کہیں زیادہ عرصے تک فعال رہا ہے اور اب بھی الٹرا وائلٹ، مرئی (visible) اور ایکس رے (X-ray) روشنی کے شعبوں میں سائنسی نتائج دے رہا ہے۔
اسرو (ISRO) نے بیان میں کہا: آسٹرواسٹ کی دہائی مکمل ہونے کا جشن — بھارت کی پہلی کثیر طولِ موج والی فلکیاتی مشاہدہ گاہ — جو الٹرا وائلٹ سے لے کر ہائی انرجی ایکس رے تک برقی مقناطیسی طیف (electromagnetic spectrum) میں انقلابی مشاہدات فراہم کر چکی ہے۔ آسٹرواسٹ کو کامیاب دہائی کی مبارکباد، اور آنے والے برسوں میں مزید دریافتوں کی امید۔
آسٹرواسٹ کی سب سے پہلی دریافت نے ایک ایسی معمّا (puzzle) کو حل کیا ،جس نے فلکیات دانوں کو دو دہائیوں سے پریشان کر رکھا تھا۔ اس نے ایک سرخ دیو (Red Giant) ستارے کی غیر معمولی چمک کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا جو الٹرا وائلٹ اور انفرا ریڈ دونوں میں دیکھی جا رہی تھی۔
ان برسوں میں یہ خلائی رصدگاہ کہکشاؤں سے آنے والے فوٹونز (photons) کو ریکارڈ کر چکی ہے، جو تقریباً نو ارب نوری سال دور ہیں۔ اس نے انکشاف کیا کہ بٹر فلائی نیبولا (Butterfly Nebula) کا اخراجی علاقہ پہلے سمجھے گئے، حجم سے تین گنا بڑا ہےاور ساتھ ہی X-ray پولرائزیشن کے مطالعے کو بھی آگے بڑھایا۔مزید یہ کہ آسٹرواسٹ نے کہکشانی انضمام (galactic mergers)، گھومتے ہوئے بلیک ہولز، اور ملکی وے (Milky Way) میں دوہری ستاروں (binary stars) کے بارے میں بھی نئی معلومات فراہم کی ہیں۔
ایک دہائی میں عالمی سطح پر اثر
آسٹرواسٹ نے عالمی سائنسی برادری میں مضبوط مقام حاصل کیا ہے۔ 57 ممالک کے 3,400 سے زائد محققین نے اس کے ڈیٹا تک رسائی کے لیے خود کو رجسٹر کیا ہے — چاہے وہ امریکہ جیسے سائنسی مراکز ہوں یا افغانستان اور انگولا جیسے نئے شراکت دار۔
بھارت میں، یہ مشن 132 جامعات میں فلکیات کی تحقیق کو سہارا دے چکا ہے، اور اس کے فعال صارفین میں سے تقریباً نصف بھارتی سائنس دان اور طلبہ ہیں۔تمام پانچ سائنسی آلات اب بھی مکمل طور پر فعال ہیں، حالانکہ یہ سیٹلائٹ اپنی متوقع عمر سے کہیں آگے جا چکا ہے۔
تعاون کی مثال:
یہ مشن بھارت کے سائنسی عزائم اور بین الاقوامی تعاون کی کامیابی کی ایک علامت ہے۔اسرو کے کئی مراکز — جیسے UR راؤ سیٹلائٹ سینٹر، اسپیس ایپلیکیشنز سینٹر، اور وکرم سارا بھائی اسپیس سینٹر — نے بھارت کے بڑے تحقیقی اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا، جن میں Tata Institute of Fundamental Research، Indian Institute of Astrophysics، اور IUCAA شامل ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اشتراک ہوا:
الٹرا وائلٹ امیجنگ ٹیلی اسکوپ میں کینیڈین اسپیس ایجنسی شامل تھی۔سافٹ ایکس رے ٹیلی اسکوپ کو برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسٹر کے تعاون سے تیار کیا گیا۔
آسٹرواسٹ نہ صرف سائنسی دریافتوں میں ایک سنگ میل ہے، بلکہ یہ بھارت کی خلا میں تحقیق کے میدان میں مضبوط پوزیشن، خود کفالت، اور عالمی تعاون کی ایک درخشاں مثال بھی ہے۔
اس کے دس سال مکمل ہونے پر، بھارت ایک ایسی کامیابی کا جشن منا رہا ہے جو سائنسی دنیا میں دیرپا اثرات چھوڑ رہی ہے — اور ابھی یہ سفر جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…