علاقائی

Assam Assembly Election 2026: آسام میں 126 سیٹوں کے لئے ریکارڈ ووٹنگ، ریاست میں 85.10 فیصد ووٹنگ سے ہوگا حکومت کا فیصلہ، بی جے پی اورکانگریس میں زبردست مقابلہ کا امکان

نئی دہلی: آسام، کیرلا (کیرلم) اورپڈوچیری میں اسمبلی انتخابات کے لئے ووٹنگ ختم ہوگئی ہے۔ کیرلا کی 140، آسام کی 126 اور پڈوچیری کی 30 سیٹوں پرووٹ ڈالے گئے۔ اس میں آسام میں 85.10 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ کیرلا میں 77.50 فیصد اورپڈوچیری میں 89.20 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ حالانکہ حتمی اعدادوشمار ابھی آنا باقی ہے۔ یہ شام 6 بجے تک کے اعدادوشمار ہیں۔ وہیں سال 2021 کے اسمبلی الیکشن کے مقابلے اس بارزیادہ ووٹنگ ہوئی ہے۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن میں 82.20 فیصد ووٹنگ درج کی گئی تھی۔ اس بار دلگاوں میں سب سے زیادہ 94.57 فیصد ووٹنگ ہوئی جبکہ ریاست میں سب سے کم ووٹنگ 70.40 فیصد امری میں ہوئی۔ آسام اسمبلی الیکشن میں کل 722 امیدوار میدان میں ہیں، جن کی قسمت کا فیصلہ 4 مئی کو ہوگا۔

الیکشن کمیشن نے کیا تھا یہ دعویٰ

ووٹنگ سے قبل، آسام کے جغرافیائی حالات کودیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے اس بارخصوصی انتظامات کئے جانے کا دعویٰ کیا تھا۔ ریاست بھرمیں ہزاروں پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے تھے، جن میں سے کئی دوردرازاوردریا کے کنارے واقع تھے۔ الیکشن کمیشن نے “گلابی بوتھ” کی تعداد میں اضافہ کیا، جن کا عملہ مکمل طورپرخواتین پرمشتمل تھا۔ ساتھ ہی، بزرگ شہریوں اورمعذوروں کے لئے گھرسے ووٹ ڈالنے کے لئے خصوصی سہولیات فراہم کی گئیں، ساتھ ہی پولنگ اسٹیشنوں پرریمپ اوروہیل چیئرزبھی فراہم کی گئی تھیں۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ آسام میں منصفانہ الیکشن کرانے کے لئے سیکورٹی کے بے حد خاص انتظامات کئے گئے تھے۔ ریاستی پولیس کے ساتھ ساتھ  سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز(سی آرپی ایف) کی سینکڑوں کمپنیاں تعینات کی گئیں۔ ہندوستان-بنگلہ دیش سرحد اوربین ریاستی سرحدوں پرگشت بڑھا دی گئی تھی۔ حساس علاقوں میں ڈرون کے ذریعہ نگرانی رکھی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی طرح کی گڑبڑی کو روکا جاسکے۔

کس پارٹی کے کتنے امیدوار؟

آسام کے انتخابی میدان میں اس باراہم مقابلہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے اورکانگریس کی قیادت والے اتحاد کے درمیان ہے۔ بی جے پی اپنی اتحادی پارٹیوں (اے جی پی اور یوپی پی ایل) کے ساتھ مل کرسبھی سیٹوں پرامیدواراتارے ہیں۔ وہیں کانگریس کے علاوہ بھی آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یوڈی ایف) اورمقامی پارٹیوں نے بھی چیلنج پیش کیا۔ آزاد امیدواروں اورنئی علاقائی پارٹیوں نے کئی سیٹوں پرمقابلے کوسہ رخی بنا دیا ہے۔ حالانکہ اب تمام امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں بند ہوگئی ہے۔

گزشتہ 15 سالوں کی تاریخ

آسام کی سیاست میں گزشتہ 15 سالوں میں بڑی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ سال 2011 میں ترون گوگوئی کی قیادت میں کانگریس نے مسلسل تیسری بارجیت حاصل کی تھی۔ وہیں سال 2016 میں بی جے پی نے تاریخی جیت درج کی اور سربانند سونے وال کی قیادت میں پہلی بارحکومت بنائی۔ وہیں سال 2021 میں بی جے پی نے اپنے اقتدارکوبرقراررکھا اورڈاکٹر ہیمنتا بسوا سرما وزیراعلیٰ بنے۔ اس طرح سے کانگریس کودوسری باراقتدار سے دوررہنا پڑا۔ اب دونوں اتحاد میں ایک بار پھر سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بی جے پی 2026 میں جیت کی ہیٹ ٹرک لگانے کی کوشش میں ہے جبکہ کانگریس اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس حاصل کرنا چاہتی ہے۔ حالانکہ اب اس کا فیصلہ 4 مئی کو ہوگا جب نتیجے سامنے آئیں گے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Asian Games 2026: ’فتح ہمیشہ آپ کے ساتھ رہے!‘ اسکواش میں کانسی کا تمغہ جیتنے پر امت شاہ نے جوشنا اور ویلون کو دی مبارکباد

ایشین گیمز 2026 کے اسکواش مکسڈ ڈبلز مقابلے میں جوشنا چناپا اور ویلون سینتھل کمار…

6 hours ago

Home Minister Amit Shah: ایشین گیمز 2026، میراتھن میں ساون برنوال نے جیتا سلور، امت شاہ نے کہا – ’کامیابی کی راہ پر اسی طرح دوڑتے رہیں‘

آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹ ساون برنوَال نے مردوں کی میراتھن میں چاندی…

6 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026، بھارتی خواتین رائفل ٹیم نے جیتا سلور، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

50 میٹر رائفل 3 پوزیشن ٹیم مقابلے میں تلوتمہ سین، وِدرشا کے ونود اور آشی…

6 hours ago

Thackeray Brothers Rally Against EC: ایس آئی آر کے خلاف پھر ایک ہوئے راج اور ادھو ٹھاکرے، 4 اکتوبر کو نکالیں گے بڑا احتجاجی مارچ

مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…

8 hours ago