بہار کے بگہا میں سیلاب کے درمیان چمپارن پشتے کے تین مقامات پر ٹوٹنے سے حالات مزید سنگین ہوگئے ہیں۔ پشتا ٹوٹنے کے بعد آس پاس کے علاقوں میں لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں، جبکہ بڑی مقدار میں پانی کھیتوں میں پھیلنے کی اطلاعات ہیں۔ اسی دوران رکن پارلیمنٹ پپو یادو بگہا پہنچے اور متاثرہ پشتے کا موقع پر معائنہ کیا۔ انہوں نے پشتے کی صورتحال پر حکومت اور انتظامیہ سے کئی سوالات اٹھائے اور تعمیراتی کام کے معیار کے ساتھ نگرانی کے نظام پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
’ہر سال کروڑوں خرچ، پھر بھی پشتے کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟‘
معائنے کے دوران پپو یادو نے کہا کہ ہر سال سیلاب سے بچاؤ اور پشتوں کی حفاظت کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر پشتے بار بار ٹوٹ رہے ہیں تو تعمیراتی کام کے معیار اور نگرانی پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ انہوں نے پشتے ٹوٹنے کے لیے ذمہ دار انجینئروں اور افسران کی شناخت کرکے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ پپو یادو نے کہا کہ والمیکی نگر، بگہا اور آس پاس کے علاقے ہر سال سیلاب کے خطرے سے دوچار رہتے ہیں۔ سیلاب آنے پر ہزاروں ایکڑ زرعی زمین متاثر ہوتی ہے اور کسانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق صرف سیلاب آنے کے بعد امداد پہنچانا کافی نہیں، بلکہ پشتوں کو مضبوط بنانے اور دریا کے کٹاؤ کو روکنے کے لیے پہلے سے ٹھوس انتظامات ضروری ہیں۔
رکن پارلیمنٹ نے پشتوں کے حساس مقامات پر گائیڈ باند اور ٹھوکر تعمیر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ دریا میں جمع گاد یعنی سلٹ کے مسئلے کو دور کرنے کے لیے بھی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دریا کے راستے میں گاد جمع ہونے سے پانی کے بہاؤ اور کٹاؤ کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے اس پہلو پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
امدادی انتظامات پر بھی اٹھائے سوال
سیلاب کے دوران امداد اور بچاؤ کے انتظامات کو لے کر بھی پپو یادو نے سوال اٹھائے۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں میں مناسب تعداد میں کشتیاں، طبی سہولیات اور کمیونٹی کچن کا انتظام یقینی بنانے کا مطالبہ کیا، تاکہ سیلاب میں پھنسے لوگوں تک ضروری امداد بروقت پہنچ سکے۔ انہوں نے 2024 اور 2026 میں پشتے ٹوٹنے کے واقعات کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرانے کا مطالبہ بھی کیا۔ پپو یادو نے کہا کہ تحقیقات میں جو بھی ذمہ دار پایا جائے، اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
کسانوں کے پانچ سال کے قرض کی معافی اور معاوضے کا مطالبہ
پپو یادو نے والمیکی نگر اور بگہا کے علاقے کو قومی آفت زدہ علاقہ قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے پانچ سال کے قرض معاف کرنے اور فصلوں سمیت دیگر نقصانات کا مناسب معاوضہ دینے کی بات کہی۔ رکن پارلیمنٹ نے نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے ڈرون اور مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کے استعمال کی تجویز بھی دی۔ ان کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے متاثرہ علاقوں اور نقصانات کا تیزی سے سروے کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد متاثرہ خاندانوں کو جلد امداد اور معاوضہ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اکتوبر 2026 میں بینکنگ، ATM سے پیسے نکالنا، LPG KYC، FD، چھوٹی بچت اسکیموں اور…
وزیر داخلہ امت شاہ کے پہنچنے سے پہلے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے…
وزیراعظم کی جانب سے شیئر کیا گیا یہ روایتی سنسکرت سبھاشیت لوگوں کو عمل اور…
کانگریس لیڈر نے نوجوان خواتین، خصوصاً جنریشن زیڈ سے بڑی تعداد میں احتجاج میں شامل…
نیرو ڈھانڈا نے کوالیفکیشن راؤنڈ میں 118 کے اسکور کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی…
واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی کئی ممالک…