سیاست

Air India Plane Crash طیارہ حادثے کے بعد امریکہ اور برطانیہ کیوں بھیج رہے ہیں اپنی اسپیشل ٹیمیں؟

برطانیہ اور امریکہ نے احمد آباد طیارہ حادثے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔ برطانیہ کی فضائی حادثات کی تحقیقاتی برانچ (اے اے آئی بی) نے بیان میں کہا ہے کہ اس نے باضابطہ طور پر ہندوستان کے ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کو مدد کی پیشکش کی ہے اور وہ مہارت کے تحت اس تحقیقات میں حصہ لے گا۔

برطانیہ نے تحقیقاتی ٹیم بھیجنے کو تیار

بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم ہندوستان میں جاری تحقیقات میں مدد کے لیے ایک کثیر الجہتی تحقیقاتی ٹیم بھیج رہے ہیں۔ یہ قدم انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے آرٹیکل 13 کے تحت قدم  اٹھایا گیا ہے، کیونکہ طیارے میں برطانوی شہری بھی تھے۔ ہماری تعزیت اس افسوسناک واقعے سے متاثرہ تمام لوگوں کے ساتھ ہے۔”

برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر کہا، “اس المناک واقعے کے تعلق سےبرطانیہ کی جانب سے جاری حمایت کے طور پر، AAIB ہندوستان میں تحقیقات میں مدد کے لیے ایک ٹیم روانہ کرے گی۔ مسلسل ہم اس  پیش رفت پر نظر بنائے ہوئے ہیں اور میری تعزیت تمام متاثرین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ ہے۔”

برطانوی ہائی کمیشن نے بھارت میں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر صورتحال کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنے اور متاثرہ افراد کو مدد فراہم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ ایف سی ڈی او نے برطانوی شہریوں کو قونصلر مدد کے لیے ایک ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے۔

امریکہ بھی ٹیم بھیجنے کو تیار

امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی (ایف اے اے) نے بھی اس واقعے پر کہا کہ وہ ہندوستان میں اس حادثے کی تحقیقات میں تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) کے تعاون سے ایک ٹیم بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

FAA نے کہا، “جب کوئی بین الاقوامی طیارہ حادثہ ہوتا ہے تو اس ملک کی حکومت تحقیقات کی قیادت کرتی ہے۔ اگر تعاون مانگا جاتا ہے تو NTSB امریکہ کی جانت سے  نمائندہ  ہوتاہے اور FAA تکنیکی مدد فراہم کرتا ہے۔ ہم NTSB کے ساتھ مل کر ٹیم بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔”

ہندوستان کے شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو نے کہا کہ احمد آباد میں پیش آنے والے المناک واقعے کے بعد انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے طے کردہ بین الاقوامی پروٹوکول کے مطابق ہوائی جہاز کے حادثے کی تحقیقاتی بیورو نے باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت اس معاملے کی تفصیل سے تحقیقات کے لیے مختلف موضوعات کے ماہرین پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کمیٹی ایوی ایشن سیکورٹی کو مضبوط بنانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کام کرے گی۔

بتایا گیا کہ سنگین حادثات کی صورت میں ایک فیلڈ ٹیم موقع پر بھیجی جاتی ہے، جو بلیک باکس (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر)، کاک پٹ وائس ریکارڈر وغیرہ کی تحقیقات کرتی ہے، اوسطاً ایسے واقعات کی ابتدائی رپورٹ تین ماہ کے اندر جاری کردی جاتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Unctad Warning: کیا مغربی ایشیا کی جنگ کی تپش سے جھلسے گی دنیا؟ اقوام متحدہ نے توانائی بحران پر دی بڑی وارننگ

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت کی…

52 minutes ago

Manipur Violence: منی پور میں پھر بھڑکا تشدد، 9 افراد کی موت سے کشیدگی میں اضافہ، وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ کی امن کی اپیل

بگڑتے حالات کے درمیان وزیر اعلیٰ وائی کھیم چند سنگھ نے شہریوں سے امن برقرار…

1 hour ago

Congress Controversy: کانگریس ہیڈکوارٹر میں ہنگامہ، اجے رائے اور ممتا چودھری کے حامیوں میں تصادم، جوتے لے کر کیا احتجاج

لکھنؤ میں کانگریس کے دفتر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب پارٹی لیڈروں اور…

1 hour ago