صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تصاویر نے ان کی صحت کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں کے دوران، وائٹ ہاؤس نے جمعرات کے روز تصدیق کی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کرونک وینس اِن سفیشیئنسی (CVI) نامی بیماری کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ،جب ان کے پیروں کی سوجن اور ہاتھ پر چوٹ کے نشانات والی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ 79 سالہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں اپنے نچلے پیروں میں ہلکی سی سوجن محسوس کی، جس کے بعد انہوں نے وائٹ ہاؤس میڈیکل یونٹ سے معائنہ کروایا۔ لیویٹ نے کہا:”مجھے علم ہے کہ میڈیا میں کئی لوگ صدر کے ہاتھ پر چوٹ اور پیروں کی سوجن کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ شفافیت برقرار رکھنے کے لیے، صدر چاہتے تھے کہ میں ان کے ڈاکٹر کا نوٹ شیئر کروں… تمام نتائج نارمل حدود میں پائے گئے۔”
کرونک وینس اِن سفیشیئنسی کیا ہے؟
وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کے معالج ڈاکٹر شین باربابیلا کی رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صدر کی مکمل میڈیکل جانچ کی گئی، جس میں ویسکولر اسٹڈیز اور دونوں پیروں کا وینس ڈوپلر الٹراساؤنڈ شامل تھے۔ ان جانچوں سے پتہ چلا کہ صدر کو کرونک وینس اِن سفیشیئنسی ہے، جو 70 سال سے زائد عمر کے افراد میں ایک عام اور غیر خطرناک حالت ہے۔
کلیولینڈ کلینک کے مطابق یہ بیماری اس وقت ہوتی ہے ،جب پیروں کی رگیں خون کو مؤثر طریقے سے دل تک واپس نہیں پہنچا پاتیں، جس کے باعث خون پیروں میں جمع ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں سوجن، درد، جلد کا رنگ بدلنا، اور بعض اوقات السر جیسی علامات پیدا ہو سکتی ہیں۔
لیویٹ نے مزید بتایا کہ ٹرمپ کی جانچ میں کسی سنگین بیماری جیسے ڈیپ وین تھرومبوسِس (DVT) یا شریانی بیماری کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ دیگر ٹیسٹس جیسے CBC، CMP، اور کوآگولیشن پروفائل کے نتائج بھی نارمل تھے۔ ایک ایکوکارڈیوگرام نے بھی تصدیق کی کہ ٹرمپ کا دل معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور نہ ہی دل کی ناکامی یا کسی نظامی بیماری کا کوئی اشارہ ہے۔
ہاتھ پر چوٹ کے نشانات کے بارے میں قیاس آرائیاں
حالیہ ہفتوں میں صدر ٹرمپ کے ہاتھ پر چوٹ کے نشان اور پیروں کی سوجن کی تصاویر منظر عام پر آئی ہیں۔ خاص طور پر 13 جولائی کو نیو جرسی میں فیفا کلب ورلڈ کپ فائنل کے دوران لی گئی تصاویر نے سوشل میڈیا پر بحث کو جنم دیا۔ ان تصاویر کے بعد ان کی صحت پر سوالات اٹھنے لگے۔
وائٹ ہاؤس نے ان نشانات پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ معمولی جلدی خراشیں ہیں، جو بار بار ہاتھ ملانے اور ایسپرین کے استعمال کی وجہ سے ہوئیں۔ ٹرمپ دل کی بیماری سے بچاؤ کے لیے باقاعدگی سے ایسپرین لیتے ہیں، جو خون کو پتلا کرتا ہے اور چوٹ کے نشانات کو واضح کر دیتا ہے۔
لیویٹ نے وضاحت کی کہ یہ نشان کرونک وینس انسفیشیئنسی سے متعلق نہیں ہیں کیونکہ یہ بیماری صرف جسم کے نچلے حصے کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرین نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ عمر اور ایسپرین کے استعمال سے ایسے نشانات پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا:“صدر کی حالیہ تصاویر میں ان کے ہاتھ کی پچھلی جانب ہلکے چوٹ کے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں، جو بار بار ہاتھ ملانے اور ایسپرین کے استعمال سے نرم بافتوں میں پیدا ہونے والی معمولی جلن سے میل کھاتے ہیں۔”
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…