امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایک حیران کن دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں “Right About Everything” (ہر معاملے میں میں صحیح تھا) تحریر والی سرخ ٹوپی پہنے ٹرمپ نے اپنے پرانے دعوے کو دہرایا اور کہا کہ ان کی سفارتی کوششوں نے برصغیر میں ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔
ٹرمپ کا دعویٰ: “ہم نے ایٹمی جنگ کو روکا”
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالات اس قدر بگڑ چکے تھے کہ ایٹمی جنگ کا خطرہ منڈلا رہا تھا۔ ان کے مطابق یہ اُن کی مداخلت تھی ،جس نے دونوں ممالک کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت کی امریکی قیادت کی رات بھر کی سفارتی کوششیں کسی معجزے سے کم نہ تھیں۔
بھارت نے ہمیشہ ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان سیزفائر کا فیصلہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت سے نہیں بلکہ دونوں ملکوں کی افواج کے ڈی جی ایم اوز (ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز) کے درمیان براہ راست بات چیت سے ہوا تھا۔ بھارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان نے “آپریشن سندور” میں بھاری نقصان کے بعد خود سیزفائر پر آمادگی ظاہر کی اور یہ فیصلہ خالصتاً بھارتی عسکری حکمتِ عملی کا نتیجہ تھا، جس میں کسی بیرونی رہنما کا کوئی کردار نہیں تھا۔
یہ پہلی بار نہیں کہ ٹرمپ نے یہ دعویٰ کیا ہو۔ انہوں نے 10 مئی کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پہلی بار لکھا تھا کہ امریکہ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان فوری جنگ بندی کروائی۔ اس کے بعد سے وہ چالیس سے زائد بار اس بیان کو دہرا چکے ہیں۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ اگر وہ بروقت اقدام نہ کرتے تو جنوبی ایشیا ایک خوفناک ایٹمی تصادم کی لپیٹ میں آ جاتا۔
ٹرمپ نے صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ مشرقی یورپ کے حالات پر بھی اپنی رائے دی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ آئندہ دو ہفتوں میں وہ ایک اہم اور بڑا فیصلہ کرنے والے ہیں، جو یا تو روس پر مزید سخت پابندیوں کی صورت میں ہوگا یا پھر بڑے پیمانے پر تجارتی محصولات (ٹیرف) کے نفاذ کی صورت میں۔ ٹرمپ نے حتیٰ کہ یہ بھی کہا کہ ممکن ہے، امریکہ مکمل طور پر اس جنگ سے علیحدگی اختیار کرلے اور کہہ دے کہ یہ صرف یوکرین کی جنگ ہے۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کو ایک میز پر آ کر بات کرنی چاہیے۔ ان کے بقول، “جنگ کو ختم کرنے کے لیے دونوں رہنماؤں کا آمنے سامنے آنا ضروری ہے۔” انہوں نے ایک دلچسپ مثال دیتے ہوئے کہا، “ٹینگو ڈانس کے لیے دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے، اگر دونوں نہیں آئیں گے، تو میری کوشش بےکار ہو جائے گی۔”
آخر میں ٹرمپ نے ایک اور بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب تک سات جنگوں کو ختم کر چکے ہیں، جبکہ تین ایسی ممکنہ جنگوں کو روک چکے ہیں جو شروع ہونے والی تھیں۔ تاہم، انہوں نے ان جنگوں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ان کے اس بیان نے ایک بار پھر بین الاقوامی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…
ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی…