اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بالواسطہ طور پر پاکستان کو عالمی دہشت گردی کا مرکز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ “جو ممالک دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپناتے ہیں اور جو دوسرے ایسے ممالک کی حمایت کرتے ہیں، وہ خود بھی اس کے نتائج بھگتیں گے۔”
پاکستان پر بلاواسطہ تنقید
ایس جے شنکر نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا: جو ممالک دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنا چکے ہوں، جہاں دہشت گردی کے مراکز صنعتی پیمانے پر چل رہے ہوں، جہاں دہشت گردوں کو عوامی طور پر ہیرو بنایا جاتا ہو، ایسے اقدامات کی سخت اور واضح مذمت کی جانی چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے دنیا بھر میں جتنے بڑے دہشت گرد حملے ہوئے ہیں، ان کے تانے بانے “ایک ہی ملک” سے ملتے ہیں، اور اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی فہرستیں اس ملک کے شہریوں سے بھری ہوئی ہیں۔
پاہلگام حملہ: پاکستان کی سرحد پار بربریت
انہوں نے حالیہ پاہلگام دہشت گرد حملے کا حوالہ دیا، جہاں رواں سال بھارتی ہندو سیاحوں کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ جے شنکر نے کہا کہ بھارت نے اس کے بعد اپنا دفاعی حق استعمال کرتے ہوئے “منظم حملہ آوروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ دہشت گردی ایک مشترکہ عالمی خطرہ ہے، اس لیے بین الاقوامی سطح پر اس کے خلاف “زیادہ گہرا تعاون” ضروری ہے۔
بھارت کا سخت جواب: “تباہ شدہ رن وے اگر فتح ہے تو مبارک ہو“
اس خطاب سے ایک دن قبل، بھارت نے پاکستان کے اس دعوے پر طنز کیا تھا کہ اس نے بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں فتح حاصل کی ہے۔ اقوام متحدہ میں بھارت کی نمائندہ پیٹل گہلوت نے کہا: اگر تباہ شدہ رن وے اور جلے ہوئے ہینگرز فتح کی علامت ہیں… تو پاکستان کو یہ فتح مبارک ہو۔
انہوں نے کہا کہ درحقیقت جنگ بندی کی اپیل خود پاکستان کی فوج نے کی تھی، اور اگر پاکستان امن کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے فوری طور پر تمام دہشت گرد کیمپ بند کر کے بھارت کو مطلوب دہشت گردوں کو حوالے کرنا چاہیے۔
“اسی پاکستان نے دہشتگردوں کو UNSC میں بچایا“
گہلوت نے یاد دلایا کہ یہی پاکستان ہے جس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں پاکستان نواز دہشت گرد تنظیم “دی ریزسٹنس فرنٹ“ (The Resistance Front) کو بچایا — وہی تنظیم جس نے پاہلگام میں ہندو یاتریوں کا قتل عام کیا۔
انہوں نے کہا کہ:”پاکستان ماضی کی طرح ایک بار پھر بھارت میں معصوم شہریوں پر دہشت گردانہ حملے کا ذمہ دار ہے۔ ہم نے اپنے شہریوں کے دفاع کا حق استعمال کیا ہے اور مجرموں کو سزا دی ہے۔”
“نفرت میں ڈوبا ملک ہم پر مذہبی انتہا پسندی کا الزام لگا رہا ہے“
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اقوام متحدہ میں “ہندوتوا پر مبنی انتہا پسندی” کے الزام پر پیٹل گہلوت نے دو ٹوک جواب دیا: یہ انتہائی ستم ظریفی ہے کہ ایک ایسا ملک جو خود نفرت، تعصب اور عدم برداشت میں ڈوبا ہوا ہے، وہ اس عالمی پلیٹ فارم پر دوسروں کو مذہب کے نام پر نصیحتیں دے رہا ہے۔
بھارت کا پیغام واضح: دہشتگرد اور ان کے سرپرست دونوں جواب دہ ہوں گے
گہلوت نے اقوام متحدہ میں بھارت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا:”جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے، بھارت اس بات کو بالکل واضح کر رہا ہے کہ دہشتگرد اور ان کے سرپرستوں کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا جائے گا — دونوں کو جواب دہ ٹھہرایا جائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت دہشت گردی کو نیوکلئیر بلیک میلنگ کے پردے میں پنپنے نہیں دے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…