مرکزی کابینہ نے جمعہ کے روز 52,667 کروڑ روپے کے پیکیج کی منظوری دی ہے، جس کے تحت تعلیم، ایل پی جی، بنیادی ڈھانچے اور شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی پر زور دیا گیا ہے۔ مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات اشونی ویشنو نے بتایا کہ تکنیکی تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے 4,200 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے مالی سال 2025-26 کے لیے ‘پردھان منتری اُجولا یوجنا’ کے تحت 12,060 کروڑ روپے کی سبسڈی کو بھی منظوری دی ہے۔
آسام اور تریپورہ کی ترقی کے لیے خصوصی پیکیج
مرکزی کابینہ نے تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے لیے 30,000 کروڑ روپے کی ایل پی جی سبسڈی کو منظوری دی ہے، جس کے بعد ایل پی جی کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی۔ کابینہ کے اجلاس میں شمال مشرقی ریاستوں، خاص طور پر آسام اور تریپورہ پر خصوصی توجہ دی گئی۔ ان دونوں ریاستوں کے لیے 4,250 کروڑ روپے کا خصوصی ترقیاتی پیکیج منظور کیا گیا ہے۔
اُجولا یوجنا کے لیے 12,060 کروڑ کی منظوری
وزیر اشونی ویشنو نے کہا، ’’پردھان منتری اُجولا یوجنا کو جامع ترقی کے لیے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کا مقصد عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔ اب تک 10.33 کروڑ اُجولا کنیکشن دیے جا چکے ہیں۔ کابینہ نے مالی سال 2025-26 کے لیے اُجولا اسکیم کے مستفیدین کے لیے 12,060 کروڑ روپے کی امداد کو منظوری دی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’مڈل کلاس کو سستی ایل پی جی گیس فراہم کرنے کے لیے کابینہ نے 30,000 کروڑ روپے کی سبسڈی کو منظوری دی ہے۔ موجودہ عالمی سیاسی حالات کی وجہ سے گیس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہوتا ہے، جس کا خیال رکھتے ہوئے یہ سبسڈی دی جاتی ہے۔‘‘
تعلیم سے متعلق کابینہ کے فیصلے
مرکزی کابینہ نے جمعہ کو 175 انجینئرنگ اداروں اور 100 پولی ٹیکنک کالجوں سمیت 275 تکنیکی اداروں میں کثیرالموضوعاتی تعلیم و تحقیق کے فروغ (MERITE اسکیم) کو نافذ کرنے کی منظوری دی۔ یہ ایک مرکزی اسکیم ہے جس پر 2025-26 سے 2029-30 تک کے عرصے میں 4,200 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، جن میں سے 2,100 کروڑ روپے عالمی بینک سے قرض کی صورت میں حاصل ہوں گے۔
تیل کمپنیوں کے خسارے کی تلافی کے لیے 30,000 کروڑ کی منظوری
کابینہ کے اجلاس میں بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (BPCL)، انڈین آئل کارپوریشن لمیٹڈ (IOCL) اور ہندوستان پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (HPCL) کو ایل پی جی میں ہونے والے خسارے کی تلافی کے لیے 30,000 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی۔ جنوبی بھارت میں سڑک رابطے کو بہتر بنانے کے لیے مرکنم–پڈوچیری چار رویہ ہائی وے کی تعمیر و ترقی کے لیے 2,157 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…
جنوری 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لکشدیپ دورے کے بعد سیاحت کے ساتھ…
اکھیل وشو گایتری پریوار کے زیر اہتمام صوبائی شکشک گریما سمیلن میں ریاست بھر سے…
اندور میں اسٹیٹ پریس کلب کے زیرِ اہتمام منعقدہ تین روزہ اٹھارویں ’انڈین جرنلزم فیسٹیول‘…
دہلی کے جنتر منتر پر 3 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف…
اڈانی گروپ کی اسکل ڈیولپمنٹ اور صلاحیت سازی کی اکائی اڈانی اسکلز اینڈ ایجوکیشن (ASE)…