بریلی میں پیش آنے والے حالیہ پرتشدد واقعے کے بعد آج ہفتہ کے روز سماجوادی پارٹی (ایس پی) کا 14 رکنی وفد متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی ریاستی حکومت نے اہم رہنماؤں کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا ہے۔اترپردیش اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ماتا پرساد پانڈے کو لکھنؤ میں اور رکنِ پارلیمانٹ ضیا ءالرحمٰن برق کو سنبھل میں پولیس نے ہاؤس اریسٹ کر لیا ہے۔ماتا پرساد پانڈے کی رہائش گاہ کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ دہلی سے آنے والے ایس پی کے تین اراکینِ پارلیمنٹ اقرا حسن، محی الدین ندوی اور ہریندر ملک کو میرٹھ کے ٹول پلازہ پر روک دیا گیا۔
سنبھل میں ضیا ءالرحمٰن برق کے گھر کے باہر بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے
ماتا پرساد پانڈے کا الزام:قائد حزب اختلاف ماتا پرساد پانڈے نے کہا کہ بریلی واقعے کی جانچ کے لیے سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایک 14 رکنی وفد تشکیل دیا تھا۔”ہمیں آج بریلی جانا تھا، لیکن صبح سے ہی ہمارے گھر کے باہر پولیس تعینات کر دی گئی۔ تھانے دار نے کہا کہ آپ گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔”انہوں نے بتایا کہ بریلی کے ڈی ایم (ضلعی مجسٹریٹ) نے کہا ہے کہ ان کے آنے سے “ماحول خراب” ہو سکتا ہے، لیکن پانڈے کا کہنا ہے کہ “ہم سے ماحول خراب نہیں ہوتا، بلکہ حکومت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ہمیں روک رہی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے وہاں زیادتیاں کی ہیں، ناجائز گرفتاریاں ہو رہی ہیں، اور یہ سب ہمیں پتہ نہ چلے، اسی لیے ہمیں روکا جا رہا ہے۔
پولیس پر سنگین الزامات:
ماتا پرساد پانڈے نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے خود ہی قانون و امن کی صورتحال کو خراب کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی دو فرقوں میں جھڑپ ہوئی ہوتی تو وہ مان لیتے کہ کوئی بڑی بات ہوئی ہے، لیکن دراصل پولیس کی کارروائی ہی فتنہ کا باعث بنی۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی افراد کے مطابق چن چن کر لوگوں کو مارا پیٹا جا رہا ہے، جھوٹے مقدمے بنا کر جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔ ایک شخص پر ایف آئی آر درج ہوتی ہے، اور گرفتاریاں چار لوگوں کی ہوتی ہیں۔ بعض افراد کے گھروں کو توڑنے کی بھی تیاری ہو رہی ہے۔ ایک مخصوص طبقے میں خوف کا ماحول ہے۔
ایس پی ایم ایل اے عطاالرحمٰن کا ردعمل
سماجوادی پارٹی کے ایم ایل اے عطاالرحمٰن نے کہا کہ ہم ماتا پرساد پانڈے کی ہدایت پر بریلی جا رہے تھے تاکہ متاثرین سے ملاقات کر سکیں، لیکن ہمیں جانے سے روک دیا گیا۔”ہم مکمل طور پر تیار بیٹھے تھے، لیکن یہاں کئی تھانوں کی پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔”
بریلی میں 26 ستمبر کو جمعہ کی نماز کے بعد ‘I Love Muhammad’ کے نعرے لگنے کے بعد ماحول کشیدہ ہو گیا تھا۔ پولیس نے ہجوم پر لاٹھی چارج کیا۔اب تک 82 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، اور پولیس کی جانب سے کارروائی جاری ہے۔اس معاملے میں مولانا توقیر رضا اور ان کے قریبی ساتھیوں کا نام بھی سامنے آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ٹورنامنٹ کا آغاز 2 اکتوبر کو سپر سیریز سے ہوگا، جس میں کوالیفائر کی تین…
ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت نے ان کی رہائش گاہ…
موہن یادو نے لوگوں سے جنگلی حیات کے محفوظ مسکن اور قدرتی توازن کو برقرار…
ملک بھر میں اڈانی فاؤنڈیشن 19 سے زائد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں…
اسمت مچھار کی بہادری کے اعتراف میں گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اعلان…
نودیپ سنگھ نے اپنے ہاسپیٹیلٹی کیریئر کا آغاز ہندوستان سے کیا۔ امرتسر سے لندن تک…