کسان تنظیموں نے ہریانہ اورپنجاب کے کسانوں کے ساتھ مل کر 30 دسمبر کو پنجاب میں بند کا اعلان کیا ہے اوراس دوران صبح 7 بجے سے شام 4 بجے تک ریاست میں ایمرجنسی خدمات کے علاوہ ہر چیز بند رہے گی۔
وہیں کسان لیڈر جگجیت سنگھ ڈلیوال کا انشن 35 دنوں سے جاری ہے۔ کھنوری میں کسان رہنماؤں نے کہا کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھنے کے لیے گاندھیائی طریقے پرچل رہے ہیں اوریہ فیصلہ حکومت کوکرنا ہے کہ وہ ان کے رہنما کو ہٹانے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا چاہتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ صبح 7 بجےکسانوں نے پنجاب کے موہالی میں ایروسٹی روڈ پرجانے والی مرکزی سڑک اور ریلوے لائن کو بلاک کر دیا گیا ہے۔
جام کے دوران ایمرجنسی سروسز اورایئرپورٹ کی طرف جانے والے مسافروں کو جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ آج پنجاب بند کے پیش نظر پولیس نے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ ٹریفک پولیس نے لوگوں کو سفر کے لیے متبادل راستے اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ بند کے پیش نظر پنجاب میں سڑکوں اور ٹرینوں کی آمدورفت خاصی متاثر ہوئی ہے۔ کئی ٹرینوں کے روٹ تبدیل کر دیے گئے ہیں، جب کہ 163 ٹرینیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ پورے پنجاب میں چار گھنٹے تک سرکاری بسیں نہیں چلیں گی۔ ایک ہزار سے زائد بسوں کے پہیے صبح 10 بجے سے دوپہر 2 بجے تک مکمل طور پر بند رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس
مرکزی حکومت کی وزیر اعظم روزگار تخلیق پروگرام اسکیم سے چھتیس گڑھ کے نوجوانوں کو…
راہل گاندھی نے کہا کہ اب مرکزی حکومت کو برطرف کرنا ہوگا، کیونکہ انہیں انتخابی…
وزیر اعظم مودی نے آسام، مغربی بنگال اور پڈوچیری کے ضمنی انتخابات کے نتائج پر…
ای روپے کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے والے دکانداروں کو بینک چارجز سے بچنے…
اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور…
مرکزی وزیر داخلہ نے یوم پیدائش پر فون کرکے دی مبارک باد دی، دونوں لیڈروں…