سیاست

Rahul Gandhi gets a setback from Jharkhand court: راہل گاندھی کی مشکلات میں اضافہ، جھارکھنڈ عدالت نے جاری کیا غیر ضمانتی وارنٹ، جانئے کیا ہے اصل معاملہ

کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی قانونی پریشانی ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ جھارکھنڈ کے چائباسامیں ایم پی-ایم ایل اے کی خصوصی عدالت نے جمعرات کو راہل گاندھی کے خلاف ایک غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا اور انہیں 26 جون 2025 کو عدالت میں ذاتی طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا۔ عدالت نے یہ سخت موقف اختیار کرتے ہوئے راہل گاندھی کے وکیل کی طرف سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

کیا ہے سارا معاملہ؟

یہ معاملہ سال 2018 میں راہل گاندھی کی جانب سے دی گئی سیاسی تقریر سے متعلق ہے۔ 28 مارچ 2018 کو کانگریس کے اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے تھے۔ اس تقریر کے حوالے سے بی جے پی لیڈر پرتاپ کٹیار نے راہل گاندھی کے خلاف 9 جولائی 2018 کو چائباسا جے ایم کورٹ میں ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

اس کے بعد جھارکھنڈ ہائی کورٹ کی ہدایت پر  کیس کو 20 فروری 2020 کو رانچی میں ایم پی-ایم ایل اے کی خصوصی عدالت میں منتقل کر دیا گیا، وہاں سے کیس کا ریکارڈ واپس ایم پی-ایم ایل اے کی عدالت میں بھیجا گیا، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ نے معاملے کا نوٹس لیا اور راہل گاندھی کو سمن جاری کیا۔

عدالت میں غیر حاضری بڑی وجہ بن گئی

سمن کے باوجود راہل گاندھی عدالت میں حاضر نہیں ہوئے۔ اس وجہ سے پہلے قابل ضمانت وارنٹ جاری کیا گیا، لیکن اس کے باوجود وہ پیش نہیں ہوئے۔ راہل گاندھی کے وکیل نے جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں وارنٹ پر روک لگانے کی درخواست کی تھی، جسے عدالت نے 20 مارچ 2024 کو نمٹا دیا، اس کے بعد جب چائباسا عدالت میں ذاتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی، تو اسے بھی مسترد کر دیا گیا تھا۔

مستقبل کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟

اب چائباسا کے ایم پی-ایم ایل اے کی عدالت نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرتے ہوئے راہل گاندھی کو 26 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے، اگر وہ اس بار بھی غیر حاضر رہتے ہیں تو ان کے خلاف مزید سخت کارروائی ممکن ہے۔

یہ کیس نہ صرف راہل گاندھی کی قانونی پوزیشن کو متاثر کر سکتا ہے، بلکہ ان کی آنے والی سیاسی حکمت عملیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی پر 2018 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس کرنے کا الزام ہے۔اس کے بعد بی جے پی لیڈر پرتاپ کٹیار کی جانب سے چائباسا کورٹ میں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا۔ اس کیس کو رانچی میں ایم پی ایم ایل اے کورٹ میں منتقل کیا گیا تھا ،لیکن جب ایم پی ایم ایل اے کورٹ چائباسا میں شروع ہوا تو ،کیس کو چائباسا میں منتقل کردیا گیا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Rupee jumps 56 paise to 93.91: ڈالر کے مقابلے روپے میں زبردست تیزی، 56 پیسے مضبوط ہوکر 93.91 پر بند

ڈیلروں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی بینک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی…

23 minutes ago

Delhi AQI Today: دہلی-این سی آر میں آلودگی کی مار، گریپ-3 نافذ، اے کیو آئی 400 کے پار، ان گاڑیوں پر پابندی

محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے مطابق، ہفتہ 7 نومبر کو دہلی-این سی آر…

2 hours ago

Lucknow & Andaman Islands are symbols of courage: لکھنؤ اور انڈمان برطانوی اقتدار کے خلاف جرأت، قربانی اور حب الوطنی کی علامت: ڈاکٹر دنیش شرما

سیلولر جیل آزادی کے متوالوں پر ہونے والے ظلم، اذیت اور ان کی قربانیوں کی…

11 hours ago