نئی دہلی :— بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما اور شمال مشرقی دہلی سے رکنِ پارلیمان منوج تیواری نے ایک ٹویٹ کے ذریعے انکشاف کیا ہے کہ پی ایم نریندر مودی کی والدہ کے خلاف استعمال کی گئی نازیبا اور غیر شائستہ زبان کے خلاف مقامی عوام شدید غم و غصے
کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، اس شرمناک حرکت پر ناراض شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور مذمت کر رہے ہیں۔
شمال مشرقی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ، منوج تیواری نے بدھ کو خاجری چوک میں صبح 10:30 بجے احتجاج کا اعلان کیا، جس میں انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی والدہ کے خلاف استعمال ہونے والی توہین آمیز اور بے ادبی زبان کو نشانہ بنایا۔
منوج تیواری نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے لکھا:“प्रधानमंत्री की माताजी को गाली और अभद्र भाषा के विरुद्ध उत्तर पूर्वी दिल्ली लोकसभा के लोग सड़कों पर…”
(پی ایم مودی کی والدہ کو گالی اور غیر مہذب زبان کے خلاف شمال مشرقی دہلی کی عوام سڑکوں پر ہے۔)
یہ واقعہ بھارتی سیاست میں اخلاقی گراوٹ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔ اگرچہ تیواری نے اپنے ٹویٹ میں براہ راست کسی خاص سیاسی شخصیت یا جماعت کا نام نہیں لیا، تاہم سیاسی حلقوں میں چہ میگوئیاں جاری ہیں کہ اس توہین آمیز زبان کا تعلق اپوزیشن کی کسی تقریب یا بیانات سے ہو سکتا ہے۔
بی جے پی دہلی یونٹ نے اس عوامی احتجاج کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے اور اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جو افراد اس حرکت میں ملوث ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ پارٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا:
“کسی کی ماں کے خلاف اس طرح کی زبان کا استعمال نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ مذمت ہے بلکہ سیاسی اقدار کے منہ پر طمانچہ ہے۔ وزیراعظم کی والدہ، جو اب اس دنیا میں موجود بھی نہیں، اُن کے بارے میں اس طرح کا رویہ ناقابل برداشت ہے۔”
دوسری جانب، سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آئندہ اسمبلی یا بلدیاتی انتخابات کے پس منظر میں ایسے واقعات کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بی جے پی اس واقعے کو عوامی ہمدردی میں تبدیل کر کے اپوزیشن پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر سکتی ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتیں اس بیان کے محرکات اور صداقت پر سوال اٹھا سکتی ہیں۔
احتجاج کے دوران متعدد مقامات پر نعرے بازی کی گئی، جن میں “ماں کا اپمان، نہیں سہے گا ہندوستان” جیسے نعرے شامل تھے۔ پولیس کی موجودگی میں احتجاج پرامن رہا، تاہم صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
بھار ت ایکسپریس اردو