یورپ اور ایشیا کی سرحد پر واقع ملک جارجیا اس وقت اپنی تاریخ کے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ ہفتہ کے روز دارالحکومت تبلیسی میں حکومت مخالف مظاہرین نے صدارتی محل (اوربیلیانی پیلس) میں گھسنے کی کوشش کی اور آگ لگانے کی کوشش بھی کی۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے موجودہ جارجین حکومت پر روس نواز ہونے کا الزام لگایا ہے۔
انتخابات کے خلاف مظاہرے
یہ مظاہرے ملک میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے خلاف ہو رہے ہیں جن کا یورپی یونین (EU) کی حامی اپوزیشن جماعتوں نے بائیکاٹ کیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ موجودہ حکومت دھاندلی کر رہی ہے۔
یورپی یونین کے سفیر پر سنگین الزامات
حکومت نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور الٹا یورپی یونین پر جارجیا میں تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا ہے۔ جارجیا کے Prime Minister Bidzina Ivanishvili نے کہا کہ یورپی حامی مظاہرین نے نہ صرف صدارتی محل میں گھسنے کی کوشش کی بلکہ محل کے باہر موجود بیری کیڈز کو آگ بھی لگا دی۔ انہوں نے یورپی یونین کے سفیر پر حکومت مخالف مظاہرین کی حمایت کے سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔
معروف اوپیرا گلوکار پاتا برچولادزے کی قیادت
ہفتے کے روز مظاہرین نے جارجیا اور یورپی یونین کے جھنڈے تھامے دارالحکومت تبلیسی کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ یہ مارچ فریڈم اسکوائر اور رُستوویلی ایونیو سے ہوتا ہوا صدارتی محل تک پہنچا۔ اس مظاہرے کی قیادت معروف اوپیرا گلوکار پاتا برچولادزے (Paata Burchuladze) نے کی۔
مظاہرے کے دوران انہوں نے ایک اعلامیہ پڑھا جو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ انہوں نے جارجیا کی وزارت داخلہ کے اہلکاروں سے عوام کی آواز پر لبیک کہنے اور جارجین ڈریم پارٹی کے 6 سینیئر رہنماؤں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، جن میں Prime Minister Bidzina Ivanishvili بھی شامل ہیں۔
اپوزیشن انتخابات کا کیوں کر رہی ہے بائیکاٹ؟
کاکیشس کے خطے میں واقع جارجیا میں سیاسی بحران گزشتہ سال کے پارلیمانی انتخابات کے بعد سے جاری ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکومتی جماعت جارجین ڈریم پارٹی مسلسل انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے جیت حاصل کر رہی ہے۔
اس الزام کو مزید تقویت اس وقت ملی جب بین الاقوامی مبصرین نے بھی انتخابی بے ضابطگیوں، تشدد اور دھمکیوں کی تصدیق کی اور انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دیا۔ اس کے بعد Prime Minister Bidzina Ivanishvili نے جارجیا کو EU میں شامل کرنے سے متعلق اجلاس کو ملتوی کر دیا، جس پر عوام کا غصہ اور بھڑک اٹھا۔
دوبارہ انتخابات کا مطالبہ
جارجیا میں جاری مظاہروں کی اصل وجہ کوPrime Minister Bidzina Ivanishvili حکومت کی آمرانہ پالیسیاں ہیں۔ حالیہ مہینوں میں حکومت نے اپنے خلاف بولنے اور لکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی ہیں۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں، صحافیوں اور مظاہرین کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔
بلدیاتی انتخابات میں جارجین ڈریم پارٹی نے 80% سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے تمام 64 میونسپل سیٹیں جیت لی ہیں، جسے اپوزیشن نے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دوبارہ انتخابات کرائے جائیں اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایشین گیمز 2026 میں بھارت کا پہلا تمغہ سُچیکا تاریال نے یقینی بنایا۔ 36 سالہ…
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران…
بھارت اور اٹلی اپنے خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔…
بھارتی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے تقریباً 3 سال کے کامیاب دور…
فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار موسم، گرمی، پانی، زراعت اور آنے والے…
روس میں 18 سے 20 ستمبر تک اسٹیٹ ڈوما یعنی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے…