سیاست

PM Modi Gujarat visit: پی ایم مودی کی گجرات کو 1400 کروڑ روپے کے ریلوے پراجیکٹس کی سوغات – شمالی گجرات کو ہوگا بڑا فائدہ

پی ایم نریندر مودی 25 اگست کو اپنے آبائی ریاست گجرات کے دورے پر ہوں گے، جہاں وہ ریاست کو 1400 کروڑ روپے سے زائد کی ریلوے پراجیکٹس کی اہم سوغات دیں گے۔ یہ پراجیکٹس خصوصی طور پر شمالی گجرات کے اضلاع مہسانہ، پٹن، بناسکانٹھا، گاندھی نگر اور احمد آباد کو فائدہ پہنچائیں گے۔

ترقی کی نئی راہیں

گجرات کے وزیرِ اعلیٰ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ان ریلوے منصوبوں سے نہ صرف علاقائی رابطہ مضبوط ہوگا بلکہ صنعتی ترقی، لاجسٹکس کی کارکردگی اور روزگار کے مواقع میں بھی قابلِ ذکر اضافہ ہوگا۔ ان منصوبوں میں شامل ہیں:

مہسانہ-پالن پور ریلوے لائن (65 کلومیٹر) کی دوہری لائن، جس پر 537 کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔

کلو–کڑی–کٹوسن روڈ ریلوے لائن (37 کلومیٹر) کا گیج کنورژن، جس پر 347 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔

بیچراجی–رنگونج ریلوے لائن (40 کلومیٹر) کا گیج کنورژن، جس پر 520 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

یہ تمام منصوبے شمالی گجرات کو براڈ گیج ریلوے نیٹ ورک سے بہتر، محفوظ اور بلا رکاوٹ رابطہ فراہم کریں گے۔

ریلوے کے ذریعے اقتصادی ترقی

ان نئی لائنوں اور گیج کنورژنز سے احمد آباد-دہلی ریلوے روٹ پر رفتار میں اضافہ ہوگا، مسافر و مال گاڑیوں کی آمدورفت میں بہتری آئے گی اور مجموعی طور پر گجرات کی اقتصادی سرگرمیوں میں نئی جان آئے گی۔ یومیہ مسافروں، سیاحوں، اور تاجروں کے لیے یہ ایک تیز تر اور آسان سفری سہولت مہیا کرے گی۔

لاجسٹکس میں انقلاب کی تیاری

بیچراجی–رنوج لائن کا گیج کنورژن قومی لاجسٹکس پالیسی اور “پی ایم گتی شکتی” ماسٹر پلان کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد لاجسٹکس کی لاگت کو کم کرنا اور گجرات کی لاجسٹکس پرفارمنس انڈیکس میں بہتری لانا ہے۔ اس سے ریاست میں سرمایہ کاری کا ماحول سازگار ہوگا اور نئی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔

نئی ٹرین اور مال گاڑی خدمات کا آغاز

وزیرِ اعظم مودی کڑی سے کٹوسن روڈ اور سابر متی کے درمیان نئی مسافر ٹرین کا افتتاح کریں گے، ساتھ ہی بیچراجی سے کار لوڈڈ مال گاڑی سروس کا بھی آغاز ہوگا۔ یہ خدمات سیاحت، مذہبی زیارات اور مقامی تجارت کے فروغ کا ذریعہ بنیں گی۔ کارگو ٹرین سروس سے صنعتی علاقوں کو بہتر رسائی حاصل ہوگی، جس سے لاجسٹکس نیٹ ورک مضبوط ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی

یہ منصوبے نہ صرف تیز رفتار اور پائیدار سفری سہولیات فراہم کریں گے بلکہ ماحول دوست ٹرانسپورٹیشن کی طرف ایک اہم قدم ہوں گے۔ وقت کی بچت، سرمایہ کاری میں اضافہ، صنعتی ترقی اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے یہ پراجیکٹس “وِکَسِت گجرات سے وِکَسِت بھارت” کے نعرے کو عملی جامہ پہنائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

LK Advani admitted to Apollo Hospital: لال کرشن اڈوانی اسپتال میں داخل، سینے میں انفیکشن کی شکایت، اپولو اسپتال میں علاج جاری

بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…

8 hours ago

SC Allows PFI Chief Abubaker Treatment: پی ایف آئی کے سربراہ ابو بکر کو میکس اسپتال میں علاج کی اجازت، سپریم کورٹ کی ہدایت

عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…

9 hours ago

Gold-Sivler Price: سونے اور چاندی کی چمک پھر لوٹ آئی! بازار کھلتے ہی قیمتوں میں زبردست اچھال، جانیے تازہ قیمتیں

سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…

9 hours ago