سیاست

PM Modi paid tribute to late Shibu Soren by reaching Sir Gangaram Hospital: پی ایم مودی نے آنجہانی شیبو سورین کو سر گنگا رام اسپتال پہنچ کر خراج عقیدت پیش کی

جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے سرکردہ رہنما شیبو سورین کا پیر کی صبح دہلی کے ایک اسپتال میں 81  برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ شری گنگا رام اسپتال کے مطابق، سورین گردے کے عارضے میں مبتلا تھے اور ڈیڑھ ماہ قبل انہیں فالج کا دورہ بھی پڑا تھا۔ وہ گزشتہ ایک ماہ سے لائف سپورٹ پر تھے۔

پی ایم مودی نے ہیمنت سورین سے فون پر بات کی تھی

اس سے پہلے پی ایم مودی نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ اور شیبو سورین کے بیٹے ہیمنت سورین سے فون پر بات کرکے افسوس کا اظہار کیا تھا۔ ساتھ ہی پی ایم مودی نے ایکس پر پوسٹ بھی کی۔ انہوں نے لکھا:”شیبو سورین ایک زمینی لیڈر تھے، جنہوں نے عوام کے تئیں اپنی غیر متزلزل وابستگی کے ساتھ عوامی زندگی میں بلندیوں کو چھوا۔ وہ قبائلی برادریوں، غریبوں اور پسماندہ طبقات کے بااختیار بنانے کے لیے خصوصی طور پر وقف تھے۔ ان کے انتقال سے گہرا دکھ ہوا۔ میری تعزیت ان کے اہل خانہ اور مداحوں کے ساتھ ہے۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے بات کی اور افسوس کا اظہار کیا۔”

شیبو سورین کے انتقال کی خبر پاتے ہی جھارکھنڈ میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ شیبو سورین کی پوری سیاسی زندگی قبائلی حقوق، سماجی انصاف اور علاقائی شناخت کی جدوجہد کے لیے وقف رہی۔ انہوں نے جھارکھنڈ ریاست کے قیام میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور قبائلی سماج کی آواز کو پارلیمان تک پہنچایا۔

دیشوم گرو کا سیاسی سفر

شیبو سورین کو عوامی طور پر ’دیشوم گرو‘ کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ انہوں نے اے کے رائے اور بنود بہاری مہتو کے ساتھ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی بنیاد رکھی اور ریاستی شناخت کی تحریک کو قیادت دی۔ ان کی قیادت میں جھارکھنڈ 2000 میں ایک علیحدہ ریاست کے طور پر قائم ہوا۔ وہ تین بار جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ (2005، 2008-09، 2009-10) بنے اور 38 سال تک جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے صدر رہے۔ شیبو سورین نے اپنے چار دہائیوں پر محیط سیاسی کیریئر میں آٹھ بار لوک سبھا اور دو بار راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ شیبو سورین کے انتقال سے جھارکھنڈ نے نہ صرف ایک تجربہ کار سیاسی رہنما بلکہ قبائلی حقوق کی ایک توانا آواز کو کھو دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Dipke on detention of Ranka and Sourav: ’’جنتر منتر ملک کی ملکیت ہے…‘‘، رانکا-سورو داس کی حراست پر ابھیجیت دیپکے کا ردعمل

ابھیجیت دیپکے نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر ملک کی ملکیت ہے اور…

27 minutes ago

Two more FIRs registered regarding the INDIA bloc: انڈیا اتحاد کے احتجاج پر دو مزید ایف آئی آر در، جانئے کن لیڈروں کے نام ہیں شامل؟

ووٹ چوری کے الزامات اور ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے…

43 minutes ago