وزیرِاعظم نے کہا کہ ان چاروں ٹاورز کے نام بھی بہت خوبصورت ہیں — کرشنا، گوداوری، کوسی اور ہگلی — یہ بھارت کی چار عظیم ندیاں ہیں، جو کروڑوں لوگوں کو زندگی فراہم کرتی ہیں۔
اب انہی ندیوں کی ترغیب سے ہمارے عوامی نمائندوں کی زندگی میں بھی خوشی اور سکون کی ایک نئی ندی بہے گی۔
انہوں نے مزید کہا:”کچھ لوگوں کو اس پر پریشانی بھی ہوگی۔ جب کوسی ندی کے نام پر ٹاور رکھا گیا، تو اُنہیں کوسی ندی نظر نہیں آئے گی، بلکہ بہار کا انتخاب دکھائی دے گا۔ ایسے تنگ ذہن رکھنے والے لوگوں کے دل کی الجھنیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔”
وزیرِاعظم نے زور دیا کہ ندیوں کے نام رکھنے کی روایت ملک کو اتحاد کے دھاگے میں باندھنے کا کام کرتی ہے۔
یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بھارت کی ثقافت میں ندیاں صرف جغرافیائی نہیں، بلکہ روحانی اور تہذیبی اہمیت بھی رکھتی ہیں۔ اور جب ان کے نام پر عمارتوں یا مقامات کے نام رکھے جائیں، تو اسے سیاست کی عینک (چشمے) سے نہیں دیکھنا چاہیے۔