سیاست

PK Jan Suraaj first list 51 candidates announced: بہار انتخاب 2025: پی کے کی پارٹی ’’جن سوراج‘‘ نے جاری کی پہلی فہرست، 51 امیدواروں کے ناموں کا اعلان

بہار میں انتخابات کے اعلان کے بعد جہاں روایتی سیاسی جماعتیں اور اتحاد ایک دوسرے کو منانے میں لگے ہوئے ہیں، وہیں سیاست میں نئے نئے شامل ہوئے پرشانت کشور نے سب پر سبقت حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے زیادہ انتظار کیے بغیر اپنی پارٹی ’’جن سوراج‘‘ کے 51 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ پہلے یہ قیاس تھا کہ فہرست دوپہر 2 بجے جاری کی جائے گی، لیکن جن سوراج نے اس سے قبل ہی امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کر دی ہے۔

پارٹی کے قومی صدر اُدے سنگھ نے پٹنہ کے شیخ پورہ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ان امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پرشانت کشور خود موجود نہیں تھے۔ اُدے سنگھ نے بتایا کہ پارٹی روزانہ امیدواروں کی نئی فہرست جاری کرتی رہے گی اور 11 تاریخ سے باضابطہ انتخابی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ پرشانت کشور راغھوپور حلقے سے اپنی مہم کا آغاز کریں گے۔ پہلی فہرست میں 7 محفوظ نشستوں، 17 انتہائی پسماندہ طبقات، اور 8 اقلیتی امیدواروں کے نام شامل کیے گئے ہیں۔

انتخابی حکمتِ عملی ساز سے سیاستدان بنے پرشانت کشور کی پارٹی ’’جن سوراج‘‘ کی امیدواروں کی پہلی فہرست منظر عام پر آ گئی ہے۔ اس فہرست میں شامل 9 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ہے۔ روہتاس ضلع کی کرگہر اسمبلی نشست کے لیے بھی امیدوار کا اعلان کیا گیا ہے، جہاں سے خود پرشانت کشور کے انتخاب لڑنے کی چہ میگوئیاں جاری تھیں۔

تاہم، جن سوراج نے کرگہر سیٹ سے مشہور بھوجپوری گلوکار ریتیش پانڈے کو انتخابی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح پرشانت کشور نے اپنی ممکنہ نشست ریتیش پانڈے کے لیے چھوڑ دی ہے، جو اس انتخاب میں پارٹی کی طرف سے نمایاں چہرے کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

پرشانت کشور نے حال ہی میں بیان دیا ہے کہ اگر وہ بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں حصہ لیتے ہیں تو وہ راگھوپور اسمبلی نشست سے تیجسوی یادو کے خلاف میدان میں اُتر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی جنم بھومی کرگہر سے بھی انتخاب لڑ سکتے ہیں۔

پرشانت کشور نے واضح طور پر کہا کہ اگر پارٹی یہ طے کرتی ہے کہ انہیں انتخاب لڑنا ہے تو وہ ضرور لڑیں گے، اس میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ ان کے اس بیان سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے، کیونکہ راگھوپور نشست تیجسوی یادو کی روایتی سیٹ مانی جاتی ہے۔

اب سب کی نظریں اس پر ٹکی ہیں کہ آیا جن سوراج پارٹی پرشانت کشور کو واقعی راگھوپور سے ٹکٹ دیتی ہے یا نہیں، اور کیا وہ براہِ راست تیجسوی یادو کو انتخابی چیلنج دیتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

6 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

7 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

7 hours ago