اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی قیدی بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ جیلوں میں پھیلی گندگی، صحت کی سہولیات کی کمی اور تشدد کے باعث قیدیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ اسرائیلی سپریم کورٹ نے اتوار کو ایک فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کو سخت پھٹکار لگائی اور حکام کو قیدیوں کی غذائی حالت بہتر بنانے کا حکم دیا۔
سپریم کورٹ کا حکومت پر سخت تبصرہ
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حکومت فلسطینی قیدیوں کو بنیادی ضروریات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں اسرائیل کی مسلسل کارروائیوں پر بین الاقوامی سطح پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
ہزاروں لوگ زیرِ حراست
بتایا گیا ہے کہ حماس پر حملے کے بعد، جنگ شروع ہونے سے پہلے اسرائیل نے ہزاروں لوگوں کو حماس سے تعلق کے شبہے میں گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے کچھ کو بعد میں چھوڑ دیا گیا، مگر بڑی تعداد میں لوگ اب بھی جیلوں میں قید ہیں۔
قیدیوں کی بدحالی کی خبریں مسلسل آتی رہی ہیں
ان جیلوں میں قیدیوں کی خراب حالت کی خبریں پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز کا دورہ کیا اور وہاں کی صورتحال کا مشاہدہ کیا۔ ان رپورٹس میں قیدیوں کو ناکافی خوراک، صحت کی سہولیات کی کمی، گندگی اور تشدد جیسے مسائل درج کیے گئے ہیں۔
“بھوک سے قیدی کی موت
اسی سال مارچ میں ایک 17 سالہ فلسطینی نوجوان کی جیل میں مشکوک حالات میں موت ہوگئی تھی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ موت کی وجہ بھوک تھی۔ اس واقعے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے جیلوں سے متعلق مسائل کو زور و شور سے اٹھانا شروع کر دیا۔
سپریم کورٹ میں انسانی حقوق کی اپیل
گزشتہ سال شہری حقوق کی تنظیم “ایسوسی ایشن فار سول رائٹس ان اسرائیل” (ACRI) اور گروپ “گیشا” نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد جیلوں میں خوراک کی پالیسی تبدیل کر دی گئی، جس کی وجہ سے قیدی بھوک اور غذائی قلت جیسے غیر انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
سپریم کورٹ کا حکم
اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے تین ججوں پر مشتمل بنچ نے حکم دیا کہ حکومت قیدیوں کی خوراک کا مناسب خیال رکھے۔ انہیں اتنی خوراک دی جائے کہ وہ صحت مند رہ سکیں۔ عدالت نے کہا کہ موجودہ خوراک کی فراہمی قانونی معیار کے مطابق نہیں ہے، اور جیل انتظامیہ کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔
“سیکورٹی وزیر کی تنقید“
دوسری جانب اسرائیل کے وزیرِ تحفظ (سیکورٹی) ایتامار بین گویر نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں یرغمال بنے اسرائیلی شہریوں کی حماس کوئی مدد نہیں کر رہا، اور ادھر سپریم کورٹ حماس کے قیدیوں کے تحفظ کے لیے احکامات جاری کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیدیوں کو صرف وہی سہولیات دی جائیں گی، جو قانون کے مطابق ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
’Switcheko‘ کا موبائل ویسٹ پروسیسنگ ماڈل، کچرا پیدا ہونے والی جگہ پر ہی کرے گا…
بنگال کی خلیج میں بننے والے موسمی نظام اور ہمالیائی خطے میں فعال مغربی ہواؤں…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کی شاندار شروعات، منی پور کی روشیبینا دیوی نے…
چین کے صدر شی جن پنگ تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے، صدر ڈونلڈ…
اتر پردیش کے گریٹر نوئیڈا میں یمنا ایکسپریس وے پر ایک دل دہلا دینے والا…
’سیوا یاترا‘ میں شامل نوجوان اسکولوں، اسپتالوں، یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز میں صفائی…